Bharat Express DD Free Dish

India Sports

رشی کانت سنگھ چنمبم نے اتوار کو 2026 دولت مشترکہ کھیلوں کے مردوں کے 60 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسنیچ میں 121 کلوگرام وزن اٹھا کر دولت مشترکہ کھیلوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

امت شاہ نے کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور ملک کا نام روشن کریں۔ اب پورے ملک کی نظریں بھارتی ایتھلیٹس پر مرکوز ہیں۔

بھارتی ٹیم کامن ویلتھ گیمز میں اپنے مضبوط ریکارڈ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ ملک کی مہم افتتاحی تقریب سے قبل ہی شروع ہو گئی تھی، جب لان باؤلز ٹیم مقابلے میں حصہ لینے والی پہلی بھارتی ایتھلیٹ ٹیم بنی۔ لولینا بورگوہین نے بھی سیمی فائنل میں جگہ بنا کر بھارت کا ایک تمغہ پہلے ہی یقینی بنا دیا ہے۔

ساکشی چودھری ورلڈ یوتھ چیمپئن شپ میں دو مرتبہ طلائی تمغہ جیت چکی ہیں۔ انہوں نے 2015 میں ورلڈ جونیئر ویمنز چیمپئن شپ میں بھی طلائی تمغہ حاصل کیا، جبکہ 2021 کی ایشین باکسنگ چیمپئن شپ میں بھی تمغہ جیتا۔ انہوں نے صرف 12 سال کی عمر میں باکسنگ کی تربیت شروع کی تھی۔

سدھا سنگھ نے 2022 میں مسابقتی کھیلوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے 2012 میں انہیں ارجن ایوارڈ سے نوازا، جبکہ 2021 میں ملک کے چوتھے اعلیٰ شہری اعزاز پدم شری سے بھی سرفراز کیا گیا۔

چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ فیڈریشن کی انتخابی پالیسی میں زچگی اور اس کے بعد صحت یابی کی مدت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا: ’’زچگی زندگی کا ایک فطری اور نہایت اہم پہلو ہے، جس کے لیے خصوصی انتظامات اور ادارہ جاتی حساسیت ضروری ہے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ماں بننے کی بنیاد پر کسی خاتون کھلاڑی کو پیشہ ورانہ مواقع سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کو عوامی اور مفت پلیٹ فارمز، خصوصاً دوردرشن اور ڈی ڈی اسپورٹس پر نشر کیا جائے تاکہ ملک کے تمام شائقین اس سے استفادہ کر سکیں۔ درخواست گزار کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے کروڑوں فٹبال شائقین دنیا کے سب سے بڑے کھیل مقابلوں میں سے ایک دیکھنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 25 مارچ سے 3 اپریل تک منعقد ہو رہے ہیں، جن میں 30 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے حصہ لے رہے ہیں۔ ان مقابلوں میں تیراندازی، ایتھلیٹکس، فٹبال، ہاکی، تیراکی، ویٹ لفٹنگ اور کشتی جیسے کھیل شامل ہیں، جبکہ مل کھمبھ اور کبڈی کو نمائشی کھیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔