India-Russia Oil Imports Modi Govt.: تیل کے معاملے میں جھکنے کے موڈ میں نہیں مودی حکومت، روس سے بھرپور خرید رہی ہے تیل، پست ہو رہے ہیں ٹرمپ کے حوصلے
امریکہ کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر دی گئی چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے باوجود بھارت نے روسی خام تیل کی خرید جاری رکھی ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی تیل خرید پالیسی کسی امریکی رعایت پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل طور پر تجارتی ضروریات اور بازار کی صورتحال کے مطابق طے کی جاتی ہے۔
Iran-US-Israel War: امریکہ نے بھارت کو دی روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ، جانئے کیوں بدلا ٹرمپ کا موڈ؟
عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔
Russia Ready To Increase Oil Supplies To India: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے درمیان بھارت کے لیے ’گڈ نیوز‘! روس نے تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے کیا بڑا اعلان
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
Putin stay in the chanakya suite: چانکیہ سوئیٹ میں ٹھہریں گے روسی صدر پوتن، کیوں ہے یہ اتنا خاص، کتنا ہے کرایہ ؟ جان کر اڑ جائیں گے ہوش
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے بھارت دورے کے دوران وہ دہلی کے آئی ٹی سی موریا ہوٹل کے چانکیہ سوئیٹ میں قیام کریں گے۔ یہ سوئیٹ اپنی شان و شوکت، سخت سکیورٹی اور شاندار مناظر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں بلیٹ پروف کھڑکیاں بھی شامل ہیں۔ اس سوئیٹ کا کرایہ تقریباً 8 سے 10 لاکھ روپے فی رات ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
India will not be buying oil from Russia: ’’وزیراعظم مودی نے یقین دلایا ہے کہ بھارت روس سے تیل نہیں خریدے گا‘‘ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان نے بڑھائی سیاسی ہلچل
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت سے خوش نہیں تھا کیونکہ اس سے ماسکو کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد کھوئے ہیں، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘





