Bharat Express DD Free Dish

India Russia oil deal

امریکہ کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر دی گئی چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے باوجود بھارت نے روسی خام تیل کی خرید جاری رکھی ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی تیل خرید پالیسی کسی امریکی رعایت پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل طور پر تجارتی ضروریات اور بازار کی صورتحال کے مطابق طے کی جاتی ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے بھارت دورے کے دوران وہ دہلی کے آئی ٹی سی موریا ہوٹل کے چانکیہ سوئیٹ میں قیام کریں گے۔ یہ سوئیٹ اپنی شان و شوکت، سخت سکیورٹی اور شاندار مناظر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں بلیٹ پروف کھڑکیاں بھی شامل ہیں۔ اس سوئیٹ کا کرایہ تقریباً 8 سے 10 لاکھ روپے فی رات ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت سے خوش نہیں تھا کیونکہ اس سے ماسکو کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد کھوئے ہیں، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘