Bharat Express DD Free Dish

India-Netherlands Relations

مالی شمولیت اور ڈیجیٹل ترقی پر تفصیلی گفتگو، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب سے مالیاتی خدمات زیادہ آسان اور کم خرچ ہوئی ہیں، بھارت اپنا تجربہ دنیا کے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے نیدرلینڈس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی رفتار ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے وسائل، سیمی کنڈکٹر، اختراع، دفاع، پائیداری اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں مستقبل کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے نیدرلینڈس دورے سے بھارت کو جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا بڑا تحفہ ملا ہے۔ 17 معاہدوں کے ذریعے سیمی کنڈکٹر سے لے کر ڈیری ترقی اور چولا وراثت کی واپسی تک، دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندی حاصل ہوئی ہے۔

ہندوستان اور نیدرلینڈس نے گجرات کے لوتهل میں قائم ہونے والے نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس (NMHC) کے فروغ کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایمسٹرڈم کے نیشنل میری ٹائم میوزیم اور ہندوستانی وزارتِ بندرگاہ و جہازرانی کے درمیان طے پایا۔

نریندر مودی کے اس دورے کو بھارت اور نیدرلینڈ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور تکنیکی تعاون کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی تین روزہ دورۂ نیدرلینڈ پر ہیں۔ مصروف شیڈول کے درمیان وزیر اعظم مودی نے ہفتہ کے روز نیدرلینڈ کے بادشاہ ولیم-الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما سے ملاقات کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز بھارت کو مواقع کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک ٹیکنالوجی اور انسانیت، دونوں کی طاقت سے آگے بڑھ رہا ہے۔

نیدرلینڈز میں بھارت کے سفیر کمار توہن نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں میں مختلف شعبوں میں تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اب اس پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس دورے کا مقصد صرف سفارتی روایات کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا بھی ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم مودی نے روب جیٹن کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور نیدرلینڈز کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، پانی کے انتظام، زراعت اور پائیدار توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مضبوط تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہوگی اور عوامی روابط میں اضافہ ہوگا۔