Bharat Express DD Free Dish

India-Japan Relations

بھارت اور جاپان نے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو نئی سمت دینے پر زور دیا ہے۔ جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی شراکت داری، ہند-بحرالکاہل خطے میں امن اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دہلی کے حیدرآباد ہاوس میں وزیراعظم مودی اور جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کے درمیان، دفاع، توانائی اور آرٹیفیشیل انٹلی جنس (اے آئی) سے متعلق تاریخی معاہدے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے تاکائچی کو اپنی 'چھوٹی بہن' قراردیا ہے۔

جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائیچی اپنے پہلے تین روزہ تاریخی دورے پر نئی دہلی پہنچ گئیں، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں لیڈر 16ویں بھارت-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران دوطرفہ تعلقات، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور علاقائی و عالمی امور سمیت متعدد اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جاپان کے وزیر خارجہ سے ملاقات نہایت خوشگوار رہی اور دونوں ممالک نے خطے میں امن و ترقی کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جاپان کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری ہند-بحرالکاہل خطے میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ کا استقبال کرکے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے جاپان کی وزیراعظم سانے تاکائچی کو فون پر مبارکباد دی، اقتصادی سلامتی، دفاعی تعاون اور ہنرمند افراد کی نقل و حرکت پر بات چیت۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم مودی نے جاپان کی معروف یونیورسٹیوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد بڑھانے اور پانچ لاکھ لوگوں کے تبادلے کے لئے ایکشن پلان کی بات کی۔ ساتھ ہی 50,000 بھارتی پروفیشنلز کو جاپان بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم ایشیبا نے سینڈائی میں سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا دورہ کیا اور بھارت اور جاپان کے درمیان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چینز میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

اقتصادی سلامتی بھارت اور جاپان کے تعاون کا ایک اہم ستون ہے، جس میں سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور صاف توانائی شامل ہیں۔ بھارت کے لیے اس شراکت داری سے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، سپلائی چین کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔

ایک اہم پیش رفت کے طور پر دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو طویل مدتی سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائے گا۔