Bharat Express DD Free Dish

India economy news

اکتوبر 2026 میں بینکنگ، ATM سے پیسے نکالنا، LPG KYC، FD، چھوٹی بچت اسکیموں اور انکم ٹیکس سے متعلق کئی اہم تبدیلیاں ہونے والی ہیں، تہواروں کے موسم میں کار، اے سی، ٹی وی اور فریج مہنگے ہونے کا بھی امکان۔

نئی دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پوسٹ بجٹ سیشن میں ماہرین معیشت اور صنعتکاروں کی شرکت۔ شرکاء نے بجٹ کو ’آتم نربھر بھارت‘ (خود کفیل بھارت) کے وژن کی جانب ایک مضبوط قدم قرار دیتے ہوئے اسے ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے نہایت مثبت بتایا۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے نے دعویٰ کیا ہے کہ چھوٹی صنعتوں کی عالمی مسابقت بڑھے گی، سرمایہ کاری اور کریڈٹ فلو میں اضافہ ہوگا اور 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو نئی رفتار ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب بھارت نے حال ہی میں یورپی یونین کے ساتھ بھی ایک تاریخی تجارتی معاہدہ کیا ہے۔

سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ، اصلاحات، ایز آف ڈوئنگ بزنس اور ہمہ گیر ترقی کو ترجیح۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے، تاکہ ترقی کے آئندہ مرحلے کے لیے مضبوط بنیاد تیار کی جا سکے۔

ٹیکس میں رعایت، افورڈیبل ہاؤسنگ، دفاع، انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت پر خصوصی توجہ متوقع۔ یہ این ڈی اے حکومت کے مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد دوسرا مکمل بجٹ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی نرملہ سیتارمن ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے مسلسل نویں مرتبہ بجٹ پیش کرنے والی ملک کی پہلی خاتون وزیر خزانہ بن جائیں گی۔

اقتصادی سروے ایک پراعتماد اور مضبوط بھارت کی تصویر پیش کرتا ہے۔ جہاں دنیا کی بڑی معیشتیں سست روی کا شکار ہیں، وہیں بھارت کی 7.4 فیصد ترقی اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی اقتصادی بنیادیں نہایت مستحکم ہیں۔ اب سب کی نظریں آنے والے عام بجٹ پر مرکوز ہیں۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 2026 پیش کیا۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر خزانہ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سروے مضبوط معاشی بنیادوں، مسلسل ترقی کی رفتار اور قوم کی تعمیر میں اختراع، صنعت کاری اور بنیادی ڈھانچے کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے حالیہ مانیٹری پالیسی جائزے کے دوران کہا کہ اگرچہ مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں گھریلو معاشی سرگرمیاں مضبوط رہیں، لیکن بعض اہم ہائی فریکوئنسی اشاریے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ سال کے دوسرے نصف میں ترقی کی رفتار پہلی ششماہی کے مقابلے میں کچھ سست ہو سکتی ہے۔

بدھ کو ایک ماہانہ سروے میں کہا گیا کہ ہندوستان کی خدمات کے شعبے کی سرگرمیوں میں فروری میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا جس میں ملکی اور بین الاقوامی مانگ میں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں پیداوار میں تیزی سے توسیع اور روزگار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2022-23 میں 7.2 فیصد رہی ہے۔ تازہ ترین جاری کردہ اعداد و شمار میں اس عرصے کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 7.2 فیصد بتائی گئی ہے۔ جبکہ 2021-22 میں یہ تخمینہ 9.1 فیصد تھا۔ مرکزی وزارت شماریات نے اس سلسلے میں اعداد و شمار جاری کئے ہیں ۔