Bharat Express DD Free Dish

IMD Weather Forecast

پیر کے روز موسم معمول کے مطابق رہا، جہاں کم سے کم درجہ حرارت 21 ڈگری سیلسیس اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 7 اپریل کو کم سے کم درجہ حرارت تقریباً 20 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی علاقے میں اچھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ 28 سے 31 جنوری کے درمیان کم از کم درجۂ حرارت میں ہلکا سا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہیں، یکم فروری سے ایک بار پھر موسم کروٹ لے گا اور سردی کا اثر برقرار رہے گا۔

محکمہ موسمیات نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انتہائی ضروری کاموں کے علاوہ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر آسمانی بجلی گرنے کے دوران کھلی جگہوں سے دور رہیں۔ محکمہ ٹریفک نے بھی پانی بھرے راستوں سے بچنے کی اپیل کی ہے۔

22 جون تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 39 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جس سے گرمی سے راحت مل سکتی ہے

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ویسٹرن ڈسٹربنس کے اثر کے باعث آئندہ چند روز میں درجہ حرارت میں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

14 جون سے موسم سرد ہونا شروع ہو جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 ڈگری اور کم سے کم 29 ڈگری تک گر جائے گا۔ یہ کمی 15 جون کو اور بھی تیز ہوگی، جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 اور کم سے کم 28 ڈگری ریکارڈ کیا جائے گا۔ ان دنوں ’گرج چمک کے ساتھ بارش‘ کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے موسم راحت بھرا رہے گا۔

اس دوران، دہلی کی ہوا کا معیار جمعرات کے روز ’میڈیم‘ زمرے میں رہا، اور ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) شام 4 بجے 151 پر ریکارڈ کیا گیا، جو ایک دن پہلے اسی وقت ماپا گئے 133 سے قدرے خراب تھا۔ جمعرات کی شام ہونے والی بارش نے فی الحال کچھ راحت دی۔ حالانکہ، بارش اتنی شدید نہیں تھی کہ موجودہ نمی اور گرمی کو کم کر سکے۔ آئی ایم ڈی نے رہائشیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ طوفانی موسم کے دوران گھر کے اندر ہی رہیں، درختوں کے نیچے پناہ لینے سے گریز کریں، اور حادثات یا نقصان سے بچنے کے لیے باہر پڑی چیزوں کو محفوظ رکھیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں تین روز کی شدید گرمی کے بعد موسم ایک بار پھر تبدیل ہو جائے گا۔ 30 مئی سے دہلی اور آس پاس کے شہروں میں ایک بار پھر طوفان اور بارش کا دور شروع ہوگا۔

منٹو روڈ انڈر پاس میں کار ڈوب گئی۔ تیز آندھی کے باعث بعض مقامات پر درخت اور شاخیں ٹوٹ گئیں۔ موسلادھار بارش کی وجہ سے دھولا کوان، آئی ٹی او، موتی باغ،

بارش اور طوفان کے باوجود درجہ حرارت میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی موسمیاتی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس قسم کا موسم نہ صرف عام لوگوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ کسانوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔