Bharat Express DD Free Dish

I Love Muhammad controversy

اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ اگر کوئی شخص ’’آئی لو محمد‘‘ کہتا ہے تو اس میں غیر قانونی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ’’آئی لو محمد‘‘ کہتے ہیں اور اگر یہ جرم ہے تو انہیں سزا دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نعروں یا پوسٹروں کو متنازعہ بنا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اے پی سی آرکی رپورٹ کے مطابق، محض 30 دنوں میں 23 شہروں میں 45 ایف آئی آردرج کی گئیں۔ یہ تمام کے تمام مسلمانوں کے خلاف ہی درج ہوئیں۔ اے پی سی آرٹیم کے مطابق، ابھی بھی بریلی کے بارادری علاقے میں پولیس کی بھاری تعیناتی کے باعث حالات کشیدہ ہیں اورمزید گرفتاریوں کے سبب لوگوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے۔

اے پی سی آر اور جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اسے قانون نافذ کرنے والا عمل قطعی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ قانون کی بالا دستی کی تباہی ہے۔ پوپی پولیس محافظ کے بجائے مظلوموں کی دشمن بن چکی ہے۔

اے پی سی آر کے نمائندوں نے یقین دلایا کہ تنظیم متاثرین کو قانونی مدد فراہم کرے گی اورواقعہ کی غیرجانبدارانہ تفتیش کے لیے حکام سے مطالبہ کرے گی۔ مزید یہ کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تواس کیس کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی لے جایا جائے گا۔

عرفان احمد ج نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا عملی ثبوت ان کی تعلیمات یعنی امن، برابری، رواداری، عدل، تعلیم، ترقی اور رحمت کو اختیار کرکے دیں، یہی سب سے بڑا خراجِ عقیدت اور سچا اظہارِ محبت ہوگا۔

سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے الزام عائد کیا کہ کانپور سے شروع ہوا معاملہ اوربریلی میں پولیس کارروائی دراصل "یوگی سرکار کی سوچی سمجھی سازش" کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوراتری اورہندوجلوسوں کے دوران کھلے عام اسلحوں کی نمائش، مساجد کے سامنے ڈي جے بجانا اور اشتعال انگیز نعرے بازی پرپولیس تماشائی بنی رہتی ہے، لیکن مسلمانوں کے پرامن مظاہروں کوطاقت کے ذریعے کچلا جاتا ہے۔

بریلی میں ’آئی لومحمد‘ پوسٹرتنازعہ کے بعد کشیدگی بڑھنے پر وزارت داخلہ نے 48 گھنٹے کے لئے موبائل انٹرنیٹ اورایس ایم ایس خدمات بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

یہ تنازع دراصل کانپور سے شروع ہوا تھا جہاں ’آئی لو محمد‘ کے پوسٹر لگائے گئے تھے۔ گزشتہ رات بریلی میں بھی یہ پوسٹر سامنے آئے۔ شاہ دانا درگاہ کے عرس میں ان پوسٹروں کے ساتھ جلوس نکالا گیا۔