Bharat Express DD Free Dish

Heavy rain

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ بارش کے موسم میں خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ محتاط رہیں اور ممکن ہو تو محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

ملک بھر میں ہفتہ کے روز رکشا بندھن کا تہوار بھی منایا جا رہا ہے، ایسے میں ویک اینڈ ہونے کے باوجود ٹریفک نظام کو برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

چنئی میں یکم جون سے اب تک 15 سینٹی میٹر بارش ہوئی ہے جو کہ معمول سے 26 فیصد زیادہ ہے۔ وہیں، پورے تمل ناڈو میں 7 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو موسمی اوسط سے 13 فیصد کم ہے۔

گزشتہ دو دنوں سے مسلسل بارش کے الرٹ جاری ہو رہا تھا، مگر متوقع بارش نہیں ہو رہی تھی۔ آخرکار آج صبح سے بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سےدہلی-NCR کے لوگوں کو بڑی راحت ملی۔

دہلی-این سی آرمیں بدھ کو خطرناک طوفان نے قہربرپایا۔ 79 کلو میٹرفی گھنٹے کی رفتارسے چلی آندھی اورطوفان دولوگوں کے موت کی وجہ بنی۔ ہوائی اورسڑک نقل وحمل بری طرح متاثرہوا۔ انڈیگو کی ایک فلائٹ کی ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی۔ بارش سے راحت تو ملی، لیکن طوفان سے زندگی کافی متاثررہی۔

سینئر عہدیدار نے کہا کہ "نیپال کے کیچمنٹ علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے، سرحدی اضلاع میں کئی مقامات پر ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں" انہوں نے کہا کہ نیپال نے ہفتہ کی شام 7 بجے سیلاب کا اعلان کر دیا ہے۔

ممبئی میں موسلادھار بارش کی وجہ سے اسکولی تعلیم کے وزیر دیپک کیسرکر نے چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد بی ایم سی نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے بی ایم سی کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام اسکول اور کالج جمعرات کو بند رہیں گے۔

دہلی میں کل دوپہر اچھی بارش دیکھنے میں آئی۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے راجدھانی دہلی میں دوبارہ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دہلی میں کل کی بارش کے بعد لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔

ایک سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں این ٹی آر، گنٹور، کرشنا، ایلورو، پالناڈو، باپٹلا اور پرکاشم شامل ہیں۔ ایس ڈی آر ایف کی 20 ٹیمیں اور این ڈی آر ایف کی 19 ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔

مین پوری اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے، اور کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ اور مقامی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ مزید مسائل پیدا نہ ہوں۔