Bharat Express DD Free Dish

Heatwaves

یورپ میں شدید ہیٹ ویو کے باعث 21 جون سے اب تک 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس طرح کے شدید حالات ہر سال مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

 دہلی- این سی آر میں آئندہ دو روز کے دوران موسم خاصا خراب رہنے کا امکان ہے۔ 30 مئی کو بادل چھائے رہیں گے اور ہلکی بارش متوقع ہے، جب کہ 31 مئی کو شدید آندھی اور موسلا دھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس دوران 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں،

وزیر اعظم مودی نے اپنے پیغام میں جانوروں اور پرندوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی میں انہیں بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گھر، بالکونی، چھت، دکان یا دفتر کے باہر پانی سے بھرا ایک چھوٹا برتن رکھنا کسی پیاسے پرندے کے لیے زندگی بچانے کے برابر ہو سکتا ہے۔

اے سی میں دھماکے کی اصل وجہ کمپریسر کی خرابی یا گیس کا اخراج بھی ہو سکتی ہے۔ جب گیس پائپ میں لیکیج ہو اور قریب میں کسی قسم کی چنگاری پیدا ہو جائے تو یہ صورتحال ایک چھوٹے دھماکے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اکثر لوگ اخراجات بچانے کے لیے غیر معیاری پرزے استعمال کرواتے ہیں یا غیر تجربہ کار مکینک سے گیس بھرواتے ہیں، جو بعد میں بڑے حادثے کا سبب بنتا ہے۔

این ایچ آر سی کی جانب سے ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ارسال کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ ان طبقات میں غریب اور مزدور طبقہ، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد، بزرگ شہری، بچے، نوزائیدہ اور خاص طور پر بے گھر افراد شامل ہیں، جو شدید گرمی کے دوران سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق دہلی سمیت شمالی ہندوستان کے مختلف علاقے ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث عام زندگی متاثر ہو رہی ہے اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزدوروں کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔