Bharat Express DD Free Dish

hanging postponed

یہ انسانی سانحہ اب بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان، سول سوسائٹی اور مذہبی شخصیات نمیشا کی جان بچانے کی اپیل کر رہے ہیں۔ مگر مقتول کے خاندان کی غیر لچکدار پوزیشن اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ فی الحال نمیشا کی زندگی اور موت کے درمیان توازن انتہائی نازک ہے، اور اس کی تقدیر آنے والے دنوں کی سفارتی، قانونی اور اخلاقی کشمکش پر منحصر ہے۔

مفتی ابوبکر مسلیار کی مداخلت کے بعد نمیشا کی پھانسی وقتی طور پر رک چکی ہے۔ اب ساری نظریں یمن میں مقتول کے اہل خانہ اور مقامی عدالت کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر مقتول کے ورثا خون بہا قبول کر لیتے ہیں، تو اسلامی قانون کے تحت نمیشا کو مکمل معافی بھی مل سکتی ہے