US-Iran Talks: ’’غلط قدم اٹھایا تو حملے دوبارہ شروع ہوں گے‘‘ ٹرمپ نے ایران کو پھر سے دی وارننگ، آبنائے ہرمز اور جوہری مسئلے پر کشیدگی بدستور برقرار
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کا ابتدائی خاکہ بتایا گیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی ’’کم قیمت‘‘ چکائی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم اشارہ دیا کہ یہ آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔
Middle East Crisis: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے دیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں پر گولہ باری کا حکم
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف بحری سلامتی بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی مکمل صفائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
US-Iran Talks: جے ڈی وینس مذاکرات کے دوسرے دور کی قیادت کے لیے پیر کو پہنچیں گے پاکستان، سیزفائر ختم ہونے سے قبل اسلام آباد میں فیصلہ کن بات چیت
دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ پہلے دور کے مذاکرات تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ممکنہ طور پر مکمل تصادم سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھی جا رہی ہے۔
Iran Ceasefire Talks: جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی وفد دوبارہ جائے گا پاکستان، ٹرمپ نے دی دھمکی، کہا-’’یہ آخری موقع ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے انفراسٹرکچر کو بنائیں گے نشانہ ‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔
Hezbollah Military Operations: حزب اللہ کے اسرائیلی اہداف پر 24 گھنٹوں میں 39 حملے، فوجی تنصیبات، گاڑیوں اور سرحدی علاقوں میں تعینات فوجی دستوں کو بنایا نشانہ
جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں قریبی فاصلے سے جھڑپیں بھی رپورٹ کی گئی ہیں، جس سے دونوں جانب صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔ ادھر بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ہدفی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Trump again claims victory: آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، کہا-’’ایران کے ساتھ جنگ خاتمے کے قریب‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو آج ایران ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، جس سے عالمی توازن مکمل طور پر بدل جاتا۔ ٹرمپ کے مطابق، …
Middle East Crisis: امریکی سینٹرل کمان کا بڑا اعلان، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی آج سے شروع، ایران کی سخت وارننگ
ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آئی آر جی سی نے مغربی افواج کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ قدم کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اگر کسی نے غلط قدم اٹھایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
China Considering Supporting Iran: ’’ چین ایران کی حمایت پر کررہا ہے غور‘‘ امریکہ-ایران مذاکرات کے دوران امریکی خفیہ اداروں کا بڑا دعویٰ
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد ایک نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی حکام اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی بیرونی حمایت سے مذاکرات یا میدانِ عمل میں طاقت کا توازن متاثر نہ ہو۔
Our fingers remain on the trigger: ’’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو نتائج ہوں گے سنگین‘‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اسرائیل کو سخت انتباہ
ایرانی صدر نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان پر نئے حملے سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات مذاکرات کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘‘
Trump Considers Withdrawing from NATO: ایران تنازع کے پس منظر میں امریکہ-نیٹو اختلافات میں اضافہ، ٹرمپ کا نیٹو سے علیحدگی پر غور، سکریٹری جنرل مارک سے اہم ملاقات
نیٹو کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی اور تب سے یہ مغربی ممالک کے اجتماعی دفاع کا اہم ستون رہا ہے۔ اس کے باہمی دفاعی اصول کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد تمام ممالک اس کے دفاع کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔





