Bharat Express DD Free Dish

Global Recognition

ایوارڈ تقریب کا سب سے جذباتی لمحہ وہ تھا جب دیپا مہتا نے بذاتِ خود ’’پائر‘‘ کی ٹیم کو اعزازات پیش کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ونود کاپڑی نے کہا کہ: ’’دیپا مہتا جی کے ہاتھوں یہ اعزاز ملنا میرے لیے کسی نعمت اور اعزاز سے کم نہیں۔ ان کا کام عالمی سینما کے لیے ایک راستہ ہے، اور ان کی موجودگی نے اس کامیابی کو مزید تاریخی بنا دیا۔‘‘

نیتا امبانی نے کہا ’’میں ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کا ان کی بصیرت افروز قیادت اوراس تاریخی اقدام کے لیے ان کی مسلسل حمایت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ یہ لمحہ ہمارے اُس مشترکہ خواب کی طرف ایک اور طاقتور قدم ہے جب ہندوستان اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔‘‘

وزیر محنت منسکھ منڈاویا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’یہ ایوارڈ وزیراعظم مودی کے ویژن اور’انتیودیہ‘ یعنی آخری شخص کو بااختیار بنانے کے اصول کی کامیابی کا مظہر ہے۔‘‘

جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’’یہ جامعہ کے لیے فخر کی بات ہے کہ ہمارے رجسٹرار کو عالمی سطح پر یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ پروفیسر رضوی کی علمی صلاحیتوں، محنت اور لگن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے، اور یہ اعزاز دراصل پورے جامعہ کا اعزاز ہے۔‘‘

صدر مارکوس کے اس دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مستحکم کیا بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں باہمی تعاون، امن، ترقی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا ایک نیا باب بھی کھولا۔

ورلڈ ایکسپو 2025، جو 13 اپریل سے 13 اکتوبر 2025 تک جاری رہے گا، ہندوستان کے لیے اپنی کامیابیوں اور اختراعات کو عالمی اسٹیج پر پیش کرنے کا ایک سنہرا موقع ہے۔ جاپان میں انڈیا پویلین کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا آج بھارت کی ترقی کو احترام اور دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے ریاست اور ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ 43 کھلاڑیوں پر مشتمل دستے نے 27 جون سے 6 جولائی کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں 95  تمغے (45 طلائی، 34 چاندی، 16 کانسی) جیتے۔

اقوام متحدہ نے بھی وزیراعظم مودی کو ماحولیات کے تحفظ کے لیے چیمپئن آف دی ارتھ ایوارڈ سے سرفراز کیا، جو ماحولیاتی قیادت کا سب سے اعلیٰ عالمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

وفود کی قیادت ششی تھرور، روی شنکر پرساد، سنجے جھا، کنی موزی کروناندھی، سپریا سولے، بجیانت پانڈا اور شریکانت شندے نے کی۔ ان رہنماؤں نے پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی پر روشنی ڈالی اور ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا۔

انوپم کھیر نے بتایا کہ فلم کا اسکرپٹ لکھنے میں انہیں دو سال لگے۔ انہیں اس فلم کا خیال اپنی بھانجی سے ملاقات کے بعد آیا جو آٹزم کا شکار ہے۔ یہ ایک پیدائشی بیماری ہے جو قدرتی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔ دنیا کی تقریباً ایک فیصد آبادی اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔