Bharat Express DD Free Dish

geopolitical crisis

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ یا ان سے منسلک بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات ایران کے ساتھ طے کیے گئے ہیں اور آئندہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت کارروائی کی جائے گی۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مرحلے کی لڑائی میں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لیکن ایران نے ابھی اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال نہیں کی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان اور زنجان میں بھی بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ شہر قم میں واقع حرم حضرت معصومہ پر ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ اسی طرح جمکران مسجد کے گنبد پر علامتی طور پر سرخ ’’پرچم انتقام‘‘ لہرا دیا گیا۔

اپنے پہلے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو روسی وفاق میں ایک ’’نمایاں مدبر رہنما‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ میزائل حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر ہے۔