Bharat Express DD Free Dish

food security

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا پائیدار زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور عالمی توانائی و غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور لچکدار سپلائی چین نہایت اہم ہے۔ ملاقات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور میٹالرجیکل کوئلے سے متعلق تجارتی انتظامات سمیت اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزارت کے مطابق یہ ذخیرہ عوامی تقسیم کے نظام کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل طور پر کافی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت خوراک کی دستیابی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا، ملائیشیا، روس، یوکرین، ارجنٹینا اور برازیل جیسے ممالک سے درآمدات مسلسل جاری ہیں۔ 

ظاہر ہے کہ ایک بچے کی زندگی کے پہلے دو برس مواقع کا وہ اہم موقع ہوتا ہے جب وافر تغذیہ اہم طو رپر اس کی جسمانی نمو، ہوش و حواس اور ہماری مستقبل کی پیڑھیوں کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

نڈا نے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ساتھ مل کر بین الاقوامی تجارت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، خوراک کی پیداوار کے عمل کو تیار کرنے اور استعمال کے نمونوں کو تبدیل کرنے میں ایف ایس ایس اے آئی  کی طرف سے کی گئی کوششوں کی ستائش کی۔

 دنیا کے سب سے بڑے اناج ذخیرہ کرنے کے منصوبے کو لاگوکرنے کے علاوہ، حکومت نے کوآپریٹو0سیکٹر میں 1,100 نئی فارمر پروڈیوسرآرگنائزیشنز(ای پی اوایس) کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔

ہیروشیما میں جی 7 سربراہی اجلاس کے 6 ورکنگ سیشن میں شرکت کے لیے پہنچنے پر پی ایم مودی کا ان کے جاپانی ہم منصب فومیو کشیدا نے استقبال کیا۔