Bharat Express DD Free Dish

Faridabad Police

فرید آباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ: ماں سے جھگڑے کے بعد گھر سے نکلی خاتون کو ایکو وین میں لفٹ دے کر دو نوجوانوں نے چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی کی۔ مزاحمت پر تشدد کیا اور ایس جی ایم نگر کے نزدیک پھینک دیا۔

دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔

دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیر 10 نومبر کی شام ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب اس واقعے کی تفتیش ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب اس معاملے کی ڈور فریدآباد کے دھوج علاقے تک لے گئی ہیں، جہاں الٰفلاح یونیورسٹی پولیس کے رڈار پر ہے۔

قومی دارالحکومت دہلی سے متصل ہریانہ کے شہر فریدآباد میں دہشت گردی سے وابستہ سرگرمیوں پر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے مسلسل دوسرے روز بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 50 سے 60 کلو دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے، جبکہ دو مشتبہ افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے فریدآباد سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے بعد ایک بار پھر متنازع بیان دے کر نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس نے فریدآباد میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا۔ اسی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے گری راج سنگھ نے الزام لگایا کہ ایسے واقعات میں ہمیشہ ’’ایک ہی برادری‘‘ کے افراد ملوث پائے جاتے ہیں۔

پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ 23 اگست کی رات ملزم گائے کے محافظوں کو ایک مخبر سے اطلاع ملی تھی کہ ڈسٹر اور فارچیونر کار سوار گھوم رہے ہیں۔