Bharat Express DD Free Dish

Enforcement Directorate

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے دہلی وقف بورڈ میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں ان کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی ایف آئی آر اور دہلی کے انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی ایک ایف آئی آر کا نوٹس لیا ہے۔

دہلی حکومت نے 2021-22 میں نئی ​​شراب پالیسی لے کر آئی تھی۔ نئی پالیسی میں گھپلے کے الزامات  لگے تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کی سفارش کی تھی۔

وزیر اعلیٰ اس سے قبل سپریم کورٹ گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ وہ ہائی کورٹ جا کر اپنا موقف پیش کریں۔ ایک دن پہلے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے پانچویں سمن کے خلاف اپنا جواب اپنے وکیل کے ذریعے ای ڈی کے دفتر کو بھیجا تھا۔ انہوں نے ای ڈی سے کہا تھا کہ عدالت سے حکم آنے تک کوئی کارروائی نہ کرے۔

عام آدمی پارٹی  کے  لیڈر سنجے سنگھ کو جمعرات (5 اکتوبر) کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سنگھ کے 10 دن کے ریمانڈ کی درخواست کی۔ ساتھ ہی سنجے سنگھ کے وکیل نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے

دوسری طرف دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے مبینہ شراب گھوٹالہ معاملے میں راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ کی گرفتاری پر مرکزی حکومت کو گھیرا ہے۔

سنجے سنگھ کی بیوی نے عام آدمی پارٹی کے  ایم پی کی گرفتاری پر کہا ہے کہ انہیں فرضی کیس میں گرفتار کیا گیا ہے اور گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اور پوری پارٹی سنجے سنگھ کے ساتھ کھڑی ہے۔

بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ کے ترجمان سمیک بھٹاچاریہ نے کہا، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) گھوٹالے کے معاملے میں عدالت کی ہدایت کے مطابق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اگر ترنمول کانگریس کو کسی چیز کا خوف نہیں ہے تو وہ مرکزی ایجنسیوں کے سامنے پیش ہونے سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟ اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

قومی ترجمان رینا گپتا نے کہ مودی جی سوچ رہے ہیں کہ اس سے وہ ہمیں ڈرا سکیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ وہ ملک میں آمریت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ای ڈی نے قبل ازیں مارچ کے مہینے میں تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کی بیٹی کویتا سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ذرائع کے مطابق اس مبینہ گھوٹالے میں ایک درجن سے زائد ایسے لوگوں کو بھی طلب کیا گیا ہے جو نقد لین دین میں ملوث تھے۔