Bharat Express DD Free Dish

end of Naxalism

چھتیس گڑھ کے بستر میں ہتھیار ڈالنے والے سابق نکسلائیٹوں نے تنظیم کی پرتشدد حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی کے باعث اب کئی نکسلائیٹ بندوق چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آ رہے ہیں…

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خاتمے سے متعلق جاری بحث کے دوران کہا کہ ملک میں 1970 سے 2004 کے درمیان نکسل واد نے تیزی سے جڑیں پکڑیں اور اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں نکسل واد پر جاری بحث کے دوران سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کی حکومت ہے اور جو بھی ہتھیار اٹھائے گا، اس کا حساب ضرور ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی مؤثر حکمت عملی کے باعث نکسل واد سے متاثرہ علاقوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ترقی کا عمل تیز ہوا ہے۔

چھتیس گڑھ کے بستر خطے میں ماؤ وادیوں کے خلاف جاری مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع دنتے واڑہ میں 36 انعامی ماؤ وادیوں سمیت مجموعی طور پر 63 ماؤ وادیوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج کی مرکزی دھارا میں واپس آنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط قیادت اور مرکز و ریاست کے باہمی تال میل کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔

گزشتہ دس برسوں میں ہزاروں نکسلیوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر خودسپردگی کی ہے، جن میں سے صرف پچھلے 75 گھنٹوں میں 303 نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے 2014 سے گمراہ نوجوانوں کو اصل دھارے میں واپس لانے کے لیے حساسیت اور ہمدردی کے ساتھ کام کررہی ہے۔