Bharat Express DD Free Dish

Dr. Zafarul Islam Khan

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ملی تنظیموں کا وفاق سمجھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ ملک کی ملی تنظیموں کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ حالانکہ اس تنظیم کو ہمیشہ انتشار کا سامنا رہا ہے۔ کبھی الگ گروپ بنانے اورکبھی دوحصوں میں منقسم کرکے قوم کومشکل میں ڈالنے کا عمل چلتا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ایک بار پھرانتشارکا سامنا ہے۔

اسلامی اسکالر، سینئرصحافی، کئی کتابوں کے مصنف اوردہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے کہا کہ اسلام کے نام پرکسی بھی دہشت گردی کو نہیں جوڑا جاسکتا۔ اگرکوئی انسان غلط کرتا ہے، تواسلام اس کے لئے ہرگز ذمہ دارنہیں ہے۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ایم. اے. جوہر نے ایجنڈا پیش کیا اور شرکاء سے تجاویز طلب کیں۔ ورکنگ جنرل سکریٹری محمد طیب نے ایجنڈا کی تفصیلات پیش کیں اور اجلاس کے میٹنگز تیار کیے۔

مسلمانوں اورمسلم تنظیموں کومتحد کرنے کا دعویٰ کرنے والی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اب اصلی اورنقلی کے تنازعہ میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس تنظیم کے دوحصوں میں تقسیم ہونے اوررجسٹرڈ اورغیررجسٹرڈ کے تنازعہ کا شکارہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کرسی اورعہدہ کی لڑائی میں یہ سب ہو رہا ہے۔