Bharat Express DD Free Dish

Dr. Syama Prasad Mukherjee

ڈاکٹر مکھرجی کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ ان کا تعلق ماہرینِ تعلیم اور دانشوروں کے ایک ممتاز خاندان سے تھا، لیکن انہوں نے آسائشوں کے بجائے قربانی اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ اپنی اہلیہ اور کم عمر بچے کی وفات جیسے ذاتی صدمات کے باوجود ڈاکٹر مکھرجی نے قومی خدمت کا مشن نہیں چھوڑا اور نوآبادیاتی نظام،

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جو ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان میں سب سے اہم اقدام 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پیغام میں لکھا، "ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے عظیم علمبردار اور جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ان کے بلیدان دیوس  پر کوٹی کوٹی  نمن۔ ثقافتی قوم پرستی کے علمبردار ڈاکٹر مکھرجی نے جہاں کشمیر میں ’دو ودھان، دو پردھان اور دو نشان‘ کی کھل کر مخالفت کی،

شیاما پرساد مکھرجی کا سیاسی سفر 1929 میں اس وقت شروع ہوا جب وہ آزاد امیدوار کے طور پر بنگال لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب ہوئے۔ شروع میں وہ کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے، لیکن بعد میں نظریاتی اختلافات کی وجہ سے انہوں نے الگ راستہ اختیار کیا اور ہندو مہاسبھا کے سرکردہ لیڈروں میں شمار ہونے لگے۔

انہوں نے نہرو حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ صرف یہی نہیں، انہوں نے بھارتی جن سنگھ کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر بنے۔