بشیربدر کو اردواکادمی، دہلی نے پیش کیا خراج عقیدت، توسیعی خطبہ و شعری نشست کا انعقاد، سرکردہ شخصیات کی شرکت
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے چند اشعار بھی ناظرین کو پڑھ کر سنائے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اردو ادب کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو زبان کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردو میں اتنی گہرائی ہے کہ اس کی تہہ میں اتر کر ہی اس کی حقیقی معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
Poet Bashir Badr Passes Away: معروف شاعر اور پدم شری بشیر بدر کا بھوپال میں انتقال، 91 برس کی عمر میں لی آخری سانس
بشیر بدر طویل عرصے سے ڈیمنشیا بیماری میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی یادداشت متاثر ہو چکی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو پہچاننے سے بھی قاصر ہو گئے تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی صحت مسلسل گرتی جا رہی تھی۔
Dr. Bashir Badr Poetry: ہردھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں….ڈاکٹر بشیر بدر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔





