Bharat Express DD Free Dish

Dr. Bashir Badr

پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے چند اشعار بھی ناظرین کو پڑھ کر سنائے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اردو ادب کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو زبان کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردو میں اتنی گہرائی ہے کہ اس کی تہہ میں اتر کر ہی اس کی حقیقی معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے۔

بشیر بدر طویل عرصے سے ڈیمنشیا بیماری میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی یادداشت متاثر ہو چکی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو پہچاننے سے بھی قاصر ہو گئے تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی صحت مسلسل گرتی جا رہی تھی۔

بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔