Bharat Express DD Free Dish

Digital Transformation

ایئر انڈیا کے مطابق یہ نظام ڈیٹا کی سالمیت، ریکارڈ کی ٹریس ایبلٹی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تجزیاتی سہولت کی بدولت ممکنہ تکنیکی خرابیوں کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکے گا، جس سے انجینئرنگ فیصلے زیادہ مؤثر اور بروقت ہوں گے۔

مالی شمولیت اور ڈیجیٹل ترقی پر تفصیلی گفتگو، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب سے مالیاتی خدمات زیادہ آسان اور کم خرچ ہوئی ہیں، بھارت اپنا تجربہ دنیا کے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

حکومت کے مطابق بھارتی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) کی یہ پیش رفت محفوظ، صارف کی رضامندی پر مبنی اور مکمل طور پر پیپر لیس شناختی تصدیقی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس نظام میں آدھار کی تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس تک فوری رسائی کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی مزید مضبوط ہوتی ہے۔

سندر پچائی نے حکومتوں اور صنعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کریں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے مثبت نتائج خود بخود یقینی نہیں ہوتے، اس کے لیے درست سمت اور نگرانی ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی اعلیٰ قدر، تخلیقی اور بامقصد کاموں کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ اس سے اختراع، صنعت کاری اور نئے شعبہ جات کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مہارت سازی، از سر نو مہارت حاصل کرنے اور تاحیات تعلیم کو عوامی تحریک بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

چندرشیکھر نے اس سمٹ کو وزیر اعظم کے ’’انڈیا ٹیکاڈ‘‘ اور ’’سیکنڈ ویو‘‘ وژن کا اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی بھی بڑے پروگرام میں تنظیمی خامیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ملک میں اے آئی اپنانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی رفتار تیز ہو۔ 

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا: ’’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ اگلے ماہ منعقد ہونے جا رہی ہے۔ دنیا بھر سے، خصوصاً ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اس سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت آئیں گے۔ یہ سمٹ اے آئی کے میدان میں بھارت کی ترقی اور کامیابیوں کو بھی اجاگر کرے گی۔‘‘

اس سال دسہرہ سے دیوالی کے درمیان یو پی آئی کے ذریعے لین دین بڑھ کر 17.8 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 15.1 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے 17 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کی عوام تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ چکی ہے۔

وزیراعظم مودی نے گوگل اور الفابیٹ کے CEO سندر پچائی کی ایک پوسٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سرمایہ کاری سب کے لیے AI کو یقینی بنائے گی، ہمارے شہریوں کو جدید ترین آلات فراہم کرے گی، ہماری ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گی اور بھارت کو عالمی ٹیکنالوجی لیڈر کے طور پر مستحکم کرے گی۔‘‘

وزیر داخلہ نے ایکس پر نیا ای میل پلیٹ فارم اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اب سے امت شاہ کا نیا ای میل پتہ [email protected] ہوگا۔