EC Announces By-Elections: الیکشن کمیشن نے کیا ضمنی انتخابات کا اعلان، بہار، گجرات اور مدھیہ پردیش کی تین اسمبلی نشستوں پر 30 جولائی کو ہوگی پولنگ
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست کانگریس کے رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں ریاستی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ راجیندر بھارتی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی رہنما نروتم مشرا کو شکست دی تھی۔
SIR Enumeration Form: دہلی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا آغاز، دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے خصوصی نظرثانی کیلئے جمع کرایا مردم شماری فارم
مردم شماری فارم کے ساتھ کسی اضافی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ووٹر الیکشن کمیشن کے ووٹر سروسز پورٹل کے ذریعے آن لائن بھی فارم جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 1950 ہیلپ لائن نمبر، ’’بک اے کال‘‘ سہولت کے ذریعے بوتھ لیول افسر سے رابطہ اور دہلی کے تمام اضلاع اور اسمبلی حلقوں میں قائم ووٹر ہیلپ سینٹروں سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
Seat Chori Allegation: ’ووٹ چوری‘ اور ’سرکار چوری‘ کے بعد اب ’سیٹ چوری‘، راہل گاندھی کا بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سخت حملہ
کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی-الیکشن کمیشن کی ’’جگل بندی‘‘ نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد بی جے پی کے تین امیدوار رجنیش اگروال، ترون چُگ اور مہیش کیوٹ کے راجیہ سبھا میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ تقریباً ہموار ہو گئی ہے۔
Supreme Court remarks: ’’جمہوریت کو اس طرح ہائی جیک نہیں کرنے دے سکتے‘‘ سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ، بی جے پی امیدوار کو جھٹکا
عدالت عظمیٰ نے کانگریس رہنما ٹی ڈی راج گوڑا کو عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت فی الحال برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر سپریم کورٹ کا عبوری حکم۔
West Bengal Assembly Polls: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات: ڈپٹی الیکشن کمشنر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ، سکیورٹی انتظامات اور انتخابی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس بار مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 2,926 امیدوار میدان میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 1,478 امیدوار مقابلہ کریں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر 1,448 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔
Assam-Kerala-Puducherry Election: آسام، کیرالا اور پڈوچیری انتخابات کے تمام انتظامات مکمل، الیکشن کمیشن کی جانب سے شفاف اور پرامن ووٹنگ کے لیے وسیع تیاریاں
تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
International Delegates: ’’انٹرنیشنل الیکشن وزیٹرز پروگرام‘‘ کے تحت بین الاقوامی مندوبین نے کیرلم، آسام اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا کیا مشاہدہ
بین الاقوامی مندوبین کی موجودگی کو بھارت کے انتخابی نظام کی شفافیت اور مضبوطی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے پروگرام عالمی سطح پر جمہوری اقدار کے فروغ اور انتخابی نظام پر اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
Campaigning ends for assembly polls: آسام، کیرالہ اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات کے لیے تشہیری مہم ختم، وزیراعظم مودی اور امت شاہ سمیت سرکردہ لیڈروں نے امیدواروں کے حق میں چلائی مہم، ووٹنگ 9 اپریل کو
ان تینوں ریاستوں میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جمعرات کو ہوگی، جس میں آسام کی 126، کیرالا کی 140 اور پڈوچیری کی 30 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امت شاہ، وزیردفاع راجناتھ سنگھ، جے پی نڈا، کانگریس کے صدر ملکاارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں نے انتخابی ریاستوں میں جلسے کر کے اپنے امیدواروں کے حق میں فضا بنانے کی کوشش کی۔
No-Confidence Motion Notice: کانگریس نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس جمع کرایا، 118 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط
ٹی ایم سی نے کانگریس سے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے اسپیکر اوم برلا کو تحریری اپیل دی جائے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اگر دو سے تین دن میں اسپیکر نے اپوزیشن کی اپیل پر کوئی کارروائی نہیں کی تو ان کی پارٹی عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرے گی۔
Japan’s general election: جاپان کے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز، وزیراعظم سنائی تاکائچی کی قیادت پر ریفرنڈم قرار
جاپان کے یہ عام انتخابات نہ صرف وزیراعظم سنائی تاکائچی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ ملک کے اندر سیاسی استحکام یا عدم استحکام کی سمت بھی طے کریں گے۔ ایسے میں پوری دنیا کی نظریں ٹوکیو پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس انتخاب کے نتائج جاپان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔





