Bharat Express DD Free Dish

Democratic process

مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست کانگریس کے رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں ریاستی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ راجیندر بھارتی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی رہنما نروتم مشرا کو شکست دی تھی۔

مردم شماری فارم کے ساتھ کسی اضافی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ووٹر الیکشن کمیشن کے ووٹر سروسز پورٹل کے ذریعے آن لائن بھی فارم جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 1950 ہیلپ لائن نمبر، ’’بک اے کال‘‘ سہولت کے ذریعے بوتھ لیول افسر سے رابطہ اور دہلی کے تمام اضلاع اور اسمبلی حلقوں میں قائم ووٹر ہیلپ سینٹروں سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی-الیکشن کمیشن کی ’’جگل بندی‘‘ نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد بی جے پی کے تین امیدوار رجنیش اگروال، ترون چُگ اور مہیش کیوٹ کے راجیہ سبھا میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ تقریباً ہموار ہو گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کانگریس رہنما ٹی ڈی راج گوڑا کو عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت فی الحال برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر سپریم کورٹ کا عبوری حکم۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس بار مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 2,926 امیدوار میدان میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 1,478 امیدوار مقابلہ کریں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر 1,448 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔

تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

بین الاقوامی مندوبین کی موجودگی کو بھارت کے انتخابی نظام کی شفافیت اور مضبوطی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے پروگرام عالمی سطح پر جمہوری اقدار کے فروغ اور انتخابی نظام پر اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان تینوں ریاستوں میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جمعرات کو ہوگی، جس میں آسام کی 126، کیرالا کی 140 اور پڈوچیری کی 30 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امت شاہ، وزیردفاع راجناتھ سنگھ، جے پی نڈا، کانگریس کے صدر ملکاارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں نے انتخابی ریاستوں میں جلسے کر کے اپنے امیدواروں کے حق میں فضا بنانے کی کوشش کی۔

ٹی ایم سی نے کانگریس سے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے اسپیکر اوم برلا کو تحریری اپیل دی جائے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ اگر دو سے تین دن میں اسپیکر نے اپوزیشن کی اپیل پر کوئی کارروائی نہیں کی تو ان کی پارٹی عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرے گی۔

جاپان کے یہ عام انتخابات نہ صرف وزیراعظم سنائی تاکائچی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ ملک کے اندر سیاسی استحکام یا عدم استحکام کی سمت بھی طے کریں گے۔ ایسے میں پوری دنیا کی نظریں ٹوکیو پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس انتخاب کے نتائج جاپان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔