Bharat Express DD Free Dish

Cyber fraud

اداکارہ کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیلیبریٹیز اور دیگر معروف شخصیات کے نام پر آن لائن دھوکہ دہی اور فرضی شناخت کے معاملات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اکثر ایسے فرضی اکاؤنٹس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا، ذاتی معلومات حاصل کرنا یا پیسوں کی ٹھگی کرنا ہوتا ہے۔

ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ اور آن لائن دھوکہ دہی کے معاملات کے پیش نظر حکومت نے ڈیجیٹل سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری کر لی ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت ہند نے مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ سے ان نمبروں کا ڈیٹا مانگا ہے جنہیں اسکیم، فراڈ اور مشتبہ سرگرمیوں کے باعث بلیک لسٹ یا بین کیا گیا ہے۔

مہاراشٹر کے ضلع یوت مال سے ایک ایسا چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ سے لے کر سیاسی حلقوں تک سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہاں محض 1500 کی آبادی والے ایک چھوٹے سے گاؤں شیندور سنی میں صرف تین مہینوں کے دوران 27 ہزار 397 بچوں کی پیدائش کا اندراج کر دیا گیا۔

ہریانہ  پولیس نے مالی سال 2024-2025 میں سائبر فراڈ کے معاملات سے 100 کروڑ روپے کی ریکوری کی ہے۔ پورے ملک میں اسی مدت میں 22,800 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان رپورٹ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً 40 فیصد زائد ہے۔

یہ گرفتاری چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ اس دوران سی بی آئی افسر بن کر جعلی لوگوں نے اسے مسلسل ویڈیو نگرانی میں رکھا اور بینک ٹرانسفر کے ذریعے 187 بار اس سے رقم نکلوالی۔

یہی نہیں کچھ ملزمین خود کو مائیکروسافٹ یا ایمازون جیسی بڑی کمپنیوں کی ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم کا رکن ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ اس گینگ نے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے سائبر فراڈ کو عالمی سطح پر انجام دیا۔

اترپردیش کے سہارنپور ضلع کے چلکانہ علاقے میں سائبر فراڈ کا شکار ایک خاتون نے زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ متوفی خاتون کے سسرال والوں نے پولیس کو بتائے بغیر لاش کو سپرد خاک کر دیا۔

پورٹل cybercrime.gov.in مالیاتی دھوکہ دہی کی فوری اطلاع دینے اور دھوکہ بازوں کے ذریعہ فنڈز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کو سائبر جرائم سے بچانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی میں مدد کرنا ہے۔

وزارت داخلہ کے تحت انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر نے جنوری سے اپریل 2024 تک ڈیجیٹل گرفتاری کے کیسز کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اس طرح سے دھوکہ دہی کے زیادہ تر واقعات جنوبی ایشیائی ممالک  کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار سےانجام دئے گئے ہیں۔ کل جرائم کا 46 فیصد ان تین ممالک سے آپریٹ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک  ایکس یوزر نے بتایا کہ انہیں ایک میسج موصول ہوا۔ اس پیغام میں لکھا تھا کہ ہیلو! میں سی جی آئی ہوں اور ہماری کالجیم کی فوری میٹنگ ہے اور میں کناٹ پلیس میں پھنس گیا ہوں۔ کیا آپ مجھے ٹیکسی کے لیے 500 روپے بھیج سکتے ہیں؟ میں عدالت پہنچتے ہی یہ رقم آپ کو واپس کر دوں گا۔