Bharat Express DD Free Dish

BJP Leader

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف لیڈروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت نے بنیادی ڈھانچے، معیشت، خارجہ پالیسی، دفاع اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے اثرات ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

جانچ ایجنسیوں کے مطابق دونوں بھائیوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے میں یہ پرچہ راجستھان کے سیکر ضلع کے رہنے والے راکیش منڈواریا سے خریدا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے یہ پرچہ اپنے خاندان کے کچھ بچوں کو امتحان میں کامیاب کرانے کے مقصد سے حاصل کیا تھا، لیکن بعد میں مالی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے دوسرے امیدواروں تک بھی پہنچایا گیا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کا ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ مبینہ طور پر ووٹوں کی چوری کے ذریعے کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے نہ صرف انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے بلکہ ہریانہ کی موجودہ حکومت کو بھی ”گھسپیٹھیا“ قرار دے دیا، جس سے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔

میئر کے اس انتخاب میں اس بار عام آدمی پارٹی نے حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے باعث مقابلہ براہ راست بی جے پی اور کانگریس کے درمیان محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم، عام آدمی پارٹی کی غیر موجودگی نے بی جے پی کے لیے راستہ مزید ہموار کر دیا اور نتیجہ یکطرفہ رہا۔

دورے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وزیر داخلہ لیہہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دورہ خطے کی ترقی کے لیے حکومتِ ہند کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

گجرات میں یہ انتخابات 15 میونسپل کارپوریشنز سمیت کئی بلدیاتی اداروں کے لیے ہو رہے ہیں، جن میں احمد آباد، سورت، وڈودرا اور راجکوٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 84 میونسپلٹیز، 34 ضلع پنچایت اور 260 تعلقہ پنچایتوں کے لیے بھی ووٹنگ جاری ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان مظاہروں میں شامل نوجوانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ معمولی رقم کے لیے بھی ایسے کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔