Bharat Express DD Free Dish

Bilawal Bhtutto-Zardari

بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا۔ تقریباً 14 ماہ بعد پاکستان نے اب دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد اسے برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کے تمام حربے ناکام ہوگئے تواب وہ اپنے پرانے اوربوسیدہ ہتھکنڈوں کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اس نے بھارت کودھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگراس نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسلام آباد جوابی کارروائی کے لیے تیارہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی یعنی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے  سپریم کورٹ میں ’کیس دائر کیا جائے گا۔حکومت کے بیانیے میں  کہا گیا ہےکہ آئین حکومت کو ’ملک مخالف سرگرمیوں‘ میں ملوث جماعت پر پابندی لگانے کا اختیار دیتا ہے۔

آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد مخلوط حکومت بنانے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق صدر، سینیٹ کے چیئرمین اور پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے گورنر کے عہدے پیپلز پارٹی کو دیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد پی پی پی کے شریک چیئرمین اور پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے مشترکہ امیدوار زرداری نے ہفتے کے روز صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو عمران خان نے اس پر سخت تنقید کی۔

انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان ہونے سے پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔ زرداری کی دونوں بیٹیوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنے والد کی جیت پر مبارکباد دی۔

پاکستان کے 14ویں صدر کے لیے ووٹنگ صبح 10 بجے شروع ہوئی جو شام 4 بجے تک جاری رہی۔ پاکستان کے نئے صدر موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جگہ لیں گے، جن کی پانچ سالہ مدت گزشتہ سال ختم ہو گئی تھی۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کودرست نہیں کر سکتے، ریفرنس میں 5 سوالات اٹھائے گئے ہیں، ذوالفقارعلی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، سپریم کورٹ کی رائے متفقہ ہوگی، بھٹو کے ٹرائل میں بنیادی حق پر عمل نہیں کیا گیا۔

ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔ دھاندلی، چھٹپٹ تشدد اور موبائل انٹرنیٹ کی بندش کے الزامات کے درمیان جمعرات کے روز ملک میں انتخابات ہوئے۔ پاکستان میں فوج کو بہت طاقتور سمجھا جاتا ہے، جس نے گزشتہ 75 سالوں میں سے نصف سے زائد عرصے تک حکومت کی ہے۔

 پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے 8 فروری 2024 کو ملک بھر میں عام انتخابات کے کامیاب انعقاد پر قوم، نگران حکومت، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں اور تمام جیتنے والے امیدواروں کو مبارکباد دی ہے۔قوم کے نام پیغام میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی عوام کی اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے آزادانہ اور بلا روک ٹوک شرکت جمہوریت کے لیے ان کے عزم کا ثبوت ہے۔

پاکستان فوج کی جانب سے جاری شدہ بیان میں عام انتخابات کے پرامن اور تشدد سے پاک انعقاد پر قوم کو مبارک باد پیش کی گئی ہے۔راولپنڈی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے انتخابی عمل کے دوران، سول طاقت کی مدد سے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔