Bharat Express DD Free Dish

Bhagat Singh

شیورام ہری راج گرو، شہید بھگت سنگھ اور سکھ دیو تھاپر کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے اس عظیم باب کے اہم کردار تھے، جس نے پورے ملک میں آزادی کی تحریک کو نئی توانائی بخشی۔ تینوں انقلابیوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی۔23 مارچ 1931 کو راج گرو، بھگت سنگھ اور سکھ دیو نے برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں پھانسی قبول کی۔

اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں آزادیٔ ہند کے عظیم انقلابی شہید بھگت سنگھ اور آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھگت سنگھ زندہ ہوتے تو وزیر اعظم انہیں بھی دِماغی نکسل قرار دے دیتے۔ اسی طرح اگر بابا صاحب امبیڈکر آج زندہ ہوتے، جنہوں نے ملک میں سب کی برابری کے لیے جدوجہد کی، تو کیجریوال کے مطابق انہیں بھی دِماغی نکسل کہنے سے نہیں بخشا جاتا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ 13 اپریل 1919 کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی حکومت کی بربریت نے انسانیت کو شرمسار کر دیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ اس دن نہتے اور پُرامن شہریوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں، جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ان شہیدوں کی قربانی ہندوستان کی تاریخ کا سنہری باب ہے اور ان کا حوصلہ، عزم اور حب الوطنی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ "قوم سب سے پہلے" کا پیغام دیتا رہے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی  نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد بھی ان تینوں شہداء کی قربانی کی داستانیں ملک کے ہر بچے کی زبان پر ہیں۔ ان کی جدوجہد آج بھی قوم کو ملک کے لیے دن رات محنت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

پی ایم مودی نے لتا منگیشکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: آج لتا دی دی کی جینتی ہے۔ جو کوئی بھی بھارتی ثقافت اور موسیقی سے محبت رکھتا ہے، وہ ان کے گیتوں کو سن کر بغیر متاثر ہوئے نہیں رہ سکتا۔ ان کے گیت انسانی جذبات کو چھو لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔

امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ بٹوکیشور دت نہ صرف ایک عظیم مجاہد آزادی ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی علامت بھی ہیں۔