Bharat Express DD Free Dish

Bengal BJP

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات اس بار مکمل طور پر ایک ہائی وولٹیج سیاسی مقابلے میں تبدیل ہو گئے۔ بی جے پی کی مہم کی قیادت زیادہ تر امت شاہ نے سنبھالی۔ مارچ کے آخر میں شروع ہونے والی’پریورتن یاترا‘ سے لے کر اپریل کے آخری دنوں تک وہ مسلسل بنگال میں سرگرم رہے۔

مغربی بنگال میں تقریباً 15 سال تک اقلیتی ووٹر ترنمول کانگریس کی انتخابی طاقت کا بنیادی ستون رہے ہیں۔ اب تقریباً 30 فیصد اقلیتی ووٹروں کو لبھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، جو ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے 114 سے زائد نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

بی جے پی کے ریاستی نائب صدر راجو بنرجی نے ریاست کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں امن و قانون کی صورتحال خراب ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی آئین اور قانون کی حکمرانی کا احترام نہیں کرتیں اور اسی وجہ سے وہ اکثر بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں۔