Bharat Express DD Free Dish

Batla House Demolition

ڈی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ خسرہ نمبر 279 سے متعلق انہدامی کارروائی کا حکم سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا ہے اور صرف اسی مخصوص خسرہ نمبر پر موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فرد نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جائیداد کا تعلق خسرہ نمبر 279 سے نہیں ہے، اس کے باوجود ڈی ڈی اے نے اسی خسرہ نمبر کے تحت اس کے خلاف ڈیمولیشن نوٹس جاری کر دیا ہے۔

ڈی ڈی اے یعنی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی  کے ذریعہ بٹلہ ہاؤس کے مراد ی روڈ پر ڈیمولیشن سے متعلق لگائی گئی نوٹس پر مقامی لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دو درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو راحت دی ہے۔ وہیں ساکیت کورٹ نے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 17 جولائی تک اسٹے دے دیا ہے۔

نوٹس کو دیکھتے ہوئے کئی مکان اور دوکان خالی ہوچکے ہیں۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے کیونکہ سالوں سے اس جگہ پر رہتے آئے ہیں۔ لوگوں نے اپنا سب کچھ مکان میں لگا دیا۔ جب مکان کی تعمیر ہو رہی تھی، تب ڈی ڈی اے کہاں تھا؟ زمین کہاں تک ہے، خود ڈی ڈی اے کو نہیں معلوم ہے۔

بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت آج ساکیت کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ان سبھی 12 معاملوں میں 17 جولائی تک اسٹے آرڈر جاری کردیا ہے۔

پولیس نے رکاوٹیں لا کر بارات گھر کے قریب اسی گلی میں رکھا ہے، جہاں بٹلہ ہاؤس میں ڈی ڈی اے کی جانب سے مکانات گرانے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس میں مجوزہ ڈی ڈی اے کی بلڈوزر کارروائی پرروک لگا دی ہے۔ اس سے ایک درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا ہے اور سبھی عرضی گزاروں کی درخواست پر10 جولائی کو سماعت ہوگی۔

یہ حکم اس وقت آیا ہے جب دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انہدامی کارروائی کو روکنے کی کسی بھی آفیشیل یقین دہانی سے انکار کر دیا تھا۔