Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Government

بنگلہ دیش میں 2024 کے سیاسی بحران کے دوران جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے والی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اب اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ ان کے حالیہ بیان کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ایک وزیر نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں سزائے موت کی یاد دلائی اور خبردار کیا کہ وطن واپسی کی صورت میں انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر رہنے کا فیصلہ ایک بار پھر بحث کا محور بن گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بورڈ نے عالمی ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔

بنگلہ دیش کے نئے  وزیر اعظم طارق رحمان کی قیادت میں نئی دہلی میں قائم بنگلہ دیش ہائی کمیشن نے 20 فروری 2026 سے بھارتی شہریوں کے لیے تمام اقسام کی ویزا خدمات بحال کر دی ہیں۔

حالیہ انتخابات کے فوری بعد عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں نے سب سے پہلے کھلنا شہر میں اپنا دفتر کھولا ہے، جہاں شیخ مجیب الرحمٰن اور شیخ حسینہ کی تصاویر نصب کی گئی ہیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔

ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے پرباچل پلاٹ اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 10 سال اوران کی بھانجی ٹیولپ صدیق کو4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کیس میں شیخ حسینہ کے خاندان کے دیگرافراد کوبھی سزا سنائی گئی تھی۔

آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ نے بنگلہ دیش میں جاری تعطل پرجاری اپنے بیان میں کہا کہ خاموشی بھی جرم ہے۔ منچ نے  اقلیتوں پر مظالم کے خلاف بھارتی مسلمانوں سے آواز بلند کرنے کی اپیل

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی سیاسی ماحول شدید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ غازی پور ضلع میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی) کے دو گروپوں میں پارٹی کے نامزدگی فارم کو لے کر خوفناک تصادم ہوئی، جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے۔

اس کا اعلان بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ اور نوبل انعام یافتہ ماہرِ معیشت پروفیسر محمد یونس نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کیا ہے۔

تسلیمہ  نسرین نے الزام لگایا کہ  محمد یونس نے بطور چیف ایڈوائزر اپنی حیثیت میں جہادی عسکریت پسندوں اور ہجوم کو تشدد پر اکسایا۔ مخالفت کو ختم کرنے کے لیے نفرت اور بغض پھیلایا۔