Bharat Express DD Free Dish

Armed forces

جنرل دھیرج سیٹھ نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنا وژن ’وجے‘ پیش کیا، جس کا مقصد بھارتی فوج کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ، مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار اور کثیر جہتی جنگی ماحول میں مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھنے والی فوج میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ترجیحات میں فوج میں جدید ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال اور تینوں مسلح افواج کے درمیان باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔

جنرل دھیرج سیٹھ نے آرمی ہیڈکوارٹر میں اسٹریٹجک پلاننگ اور صلاحیت سازی سے متعلق اہم ذمہ داریاں بھی نبھائیں، جہاں انہوں نے فوج کی جدید کاری، مستقبل کی ضروریات اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اعلیٰ فوجی تعلیم میں بھی نمایاں کارکردگی کے حامل رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ کو بھارتی فوج کی جدیدکاری اور مستقبل کی جنگی صلاحیتوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے آرمی ہیڈکوارٹر میں اسٹریٹجک پلاننگ اور کیپبلیٹی ڈیولپمنٹ سے متعلق اہم ذمہ داریاں نبھائیں، جہاں انہوں نے فوج کی جدید جنگی ضروریات، نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور طویل مدتی فورس اسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی چار دن تک جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ آپریشن سندور کو بھارت کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی، عسکری تیاری اور مربوط کارروائی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مشترکہ کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

یہ پیش رفت بھارت کی دفاعی خود کفالت کی پالیسی کو نئی رفتار دیتی ہے۔ دیسی ہتھیاروں کی تیاری نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی صنعت کو بھی مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج مسلح افواج جھنڈا دیوس کے موقع پر مسلح افواج کے تئیں شکریہ ادا کیا اور قوم کے لیے ان کی وابستگی کی ستائش کی۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوگوں سے آرمڈ فورسز فلیگ ڈے فنڈ میں فراخدلی سے حصہ   لینےکی اپیل کی ہے اور نجی شعبے پر زور دیا ہے کہ وہ ہر سال ریٹائر ہونے والے تقریباً 60,000 فوجیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے۔