Bharat Express DD Free Dish

Anil Ambani

"ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بینکوں نے ڈیفالٹ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کیا کارروائی کی، اگر کی بھی ہے تو۔ کیا انہوں نے کسی تحقیقاتی ایجنسی میں ان کمپنیوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کے لیے کوئی شکایت درج کرائی؟"

یہ معاملہ نہ صرف ملک کی مالیاتی سالمیت پر سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیش رفت پر سب کی نظریں جمی ہوں گی۔

ریلائنس پاور اور ریلائنس انفراسٹرکچر نے اسٹاک ایکسچینجز کو بتایا کہ ای ڈی کی کارروائیوں کا ان کی کاروباری سرگرمیوں، مالی حالت یا شیئر ہولڈرز پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

گزشتہ ہفتے ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت دہلی سے لے کر ممبئی تک ریلائنس گروپ سے جُڑے تقریباً 35 مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ ان چھاپوں کے دوران متعدد دستاویزات، مالیاتی لین دین، ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر شواہد ضبط کیے گئے۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ قرض دینے سے پہلے Yes Bank کے پروموٹرز کو اپنی کمپنیوں میں رقم موصول ہوئی تھی۔

سیبی نے پایا کہ انل امبانی نے آر ایچ ایف ایل کی مینیجنگ کمیٹی کے کلیدی ممبران کی مدد سے آر ایچ ایف ایل سے اپنی متعلقہ اداروں کو قرض کے طور پر رقم نکالنے کی سازش کی تھی۔

ممبئی میں ووٹنگ شروع ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا ہے اور اب تک کچھ مشہور شخصیات نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے۔ سپر اسٹار اکشے کمار، اداکار و ہدایت کار فرحان اختر اور ان کی بہن زویا اختر نے بھی ووٹ کاسٹ کیا۔

گزشتہ سال اگست میں محکمہ انکم ٹیکس نے انل امبانی کو کالے دھن مخالف قانون کے تحت سوئس بینک کے دو کھاتوں میں رکھے گئے 814 کروڑ روپے سے زیادہ کے نامعلوم فنڈز پر 420 کروڑ روپے کی مبینہ ٹیکس چوری کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔