Bharat Express DD Free Dish

All Party Delegation

وزیر خارجہ ایس جے شنکر پہلے ہی ان وفود سے ملاقات کر چکے ہیں اور پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کی حمایت کے خلاف ہندوستان کے مضبوط موقف کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

منیش تیواری نے کہا کہ "تمام وفود جو غیر ملکی دوروں پر گئے اور وہاں انہوں نے اپنے ہم منصبوں سے بات کی، انہوں نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے،

آپریشن سندور کی وضاحت کے لیے دنیا بھر میں بھیجے گئے کل جماعتی وفود جلد ہی ملک لوٹنے والے ہیں اور جے پانڈا کی قیادت والا وفد سب سے پہلے کل دہلی پہنچے گا۔

۔سلمان  خورشید، جو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں، نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو عالمی سطح پر پیش کرنا ضروری ہے، اور اس بحث کو ملکی سیاسی اختلافات میں نہیں الجھنا چاہیے۔

تھرور نے کہا کہ اب تک وفد کو جن ممالک سے جو ردعمل ملا ہے، وہ نہایت مثبت رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بھارت کے اعتراض کے بعد کولمبیا نے پاکستانی دہشتگردوں کی ہلاکت پر جاری کردہ تعزیتی بیان واپس لے لیا۔

وفود کی قیادت ششی تھرور، روی شنکر پرساد، سنجے جھا، کنی موزی کروناندھی، سپریا سولے، بجیانت پانڈا اور شریکانت شندے نے کی۔ ان رہنماؤں نے پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی پر روشنی ڈالی اور ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا۔

چارلی کو اس غیر رسمی گفتگو میں ایک ٹھیٹھ بہاری انداز دیکھا گیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں بھارتی وفد کے ساتھ ملاقات کو شاندار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں بھارتی پارلیمنٹ کے ارکان سے ملنے کے لیے بلایا گیا ہے، ہم کو ’نربسنیس‘ ہو رہا تھا کہ یہ ہم سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟

یہ سفارتی مہم بھارت کے عالمی دفاعی اور سیاسی موقف کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دہشت گردی کی حمایت کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کی کوشش ہے۔

یہ کثیرالجماعتی وفود نہ صرف پاکستان کے اقدامات کے خلاف بھارت کے موقف کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی برادری کو یہ بھی دکھائیں گے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔

بھارت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا آپریشن سندھور کے ذریعے جواب دیا۔ جس دوران  پاکستان اور پی او کے میں واقع دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جواب میں پاکستان نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کئی شہروں پر حملے کرنے کی کوشش کی۔