Bharat Express DD Free Dish

Adani Corporate House

اڈانی گروپ کی جانب سے بھی ریاست میں اپنی موجودگی بڑھانے کے اشارے ملے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ مغربی بنگال میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے متعلق بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بھارت اس وقت تیزی سے پمپڈ اسٹوریج صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور آندھرا پردیش اس شعبے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اڈانی گروپ بھی اپنی قابل تجدید توانائی حکمت عملی کے تحت آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں ایسے کئی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے۔

بھٹوریا کے مطابق ان قانونی معاملات کے خاتمے سے ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور اس سے عالمی بازار میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں کے بارے میں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔

دوسری جانب گھریلو شیئر بازار میں بھی مثبت ماحول دیکھنے کو ملا۔ سینسیکس اور نفٹی میں صبح کے کاروبار کے دوران تقریباً 0.5 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بازار کو سہارا دیا۔ بازار کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی قانونی کارروائی ختم ہونے سے اڈانی گروپ کے شیئرز پر موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر آہوجا کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے ایران سے متعلق پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے ساتھ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے تصفیے کا اعلان کیا ہے۔

کانفرنس کے افتتاحی پروگرام میں ادانی گروپ کے چیئرمین گوتم ادانی نے ’انڈیا نالج گراف‘ کی تعمیر کے لیے تاریخی اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں انڈیا نالج گراف کی تشکیل اور انڈولوجی مشن میں حصہ لینے والے ماہرین اور تکنیکی ماہرین کی حمایت کے لیے 100 کروڑ روپے کے ابتدائی تعاون کا اعلان کرتے ہوئے خود کو شرف محسوس کرتا ہوں۔ یہ ایک تہذیبی قرض کی ادائیگی ہے۔‘‘