ٹاپ سیڈ پیٹن اور ہیلیووارا اس سے قبل 2024 میں بھی ومبلڈن کا خطاب جیت چکے تھے، جبکہ 2025 کے آسٹریلین اوپن کی ٹرافی بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔
تاریخی کارنامہ انجام دیا
ہیلیووارا اور پیٹن 2011 میں باب برائن اور مائیک برائن کے بعد ومبلڈن مینز ڈبلز کا ایک سے زیادہ مرتبہ ٹائٹل جیتنے والی پہلی جوڑی بن گئے ہیں۔ اوپن ایرا میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ مجموعی طور پر گیارہویں ٹیم ہیں۔ اوپن ایرا میں اس سے قبل صرف چار دیگر برطانوی مرد کھلاڑی ومبلڈن جینٹلمینز ڈبلز کا خطاب جیت چکے ہیں، جن میں جوناتھن مرے (2012 میں فریڈرک نیلسن کے ساتھ)، نیل اسکوپسکی (2023 میں ویسلے کولہوف کے ساتھ) اور جولین کیش و لائیڈ گلاسپول شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال یہ ٹائٹل جیتا تھا۔
پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی
دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں چیمپئن جوڑی نے تین فائنل سیٹ ٹائی بریک مقابلے جیتے۔ دوسرے راؤنڈ میں انہوں نے میک کیگر اور پیٹرک تھریک، تیسرے راؤنڈ میں ایڈم پاولاسیک اور پیٹرک ریکل، جبکہ کوارٹر فائنل میں آٹھویں سیڈ گائیڈو آندریوزی اور مینوئل گینارڈ کو شکست دی۔ چیمپئن شپ کے دوران انہوں نے مجموعی طور پر نو ٹائی بریک کھیلے، جن میں سے آٹھ اپنے نام کیے۔
فائنل میں ایک بھی بریک پوائنٹ نہیں ملا
ہنری پیٹن نے فیصلہ کن لمحے میں زبردست ایس لگا کر اپنی ٹیم کو تیسری بڑی گرینڈ سلیم ٹرافی دلائی۔ اس سے قبل وہ 2024 میں ومبلڈن اور 2025 کے آسٹریلین اوپن میں بھی فتح حاصل کر چکے ہیں۔ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے پیٹن اوپن ایرا میں ایک سے زیادہ مرتبہ ومبلڈن ڈبلز ٹرافی جیتنے والے پہلے برطانوی مرد کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔فائنل مقابلے میں کسی بھی ٹیم کو ایک بھی بریک پوائنٹ حاصل نہیں ہوا۔ ہیلیووارا اور پیٹن نے دباؤ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی پہلی سروس کے 45 میں سے 41 پوائنٹس (91 فیصد) جیتے۔اس کامیابی کے بعد ہیلیووارا اور پیٹن کی جوڑی لیکسس اے ٹی پی ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ میں اریوالو اور پاوچ کے خلاف 6-3 کی برتری حاصل کر چکی ہے، جس میں رواں سال کا 4-1 کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب مارسیلو اریوالو نے اس سال جیلینا اوستاپینکو کے ساتھ ومبلڈن مکسڈ ڈبلز کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

