Bharat Express DD Free Dish

Wimbledon: ومبلڈن: ایک ’اشتہار‘ سے شروع ہونے والا ٹینس ٹورنامنٹ، جس نے پوری دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنائی

ومبلڈن دنیا کے سب سے قدیم اور باوقار ٹینس ٹورنامنٹس میں شمار ہوتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس عظیم مقابلے کا آغاز ایک معمولی اشتہار سے ہوا تھا۔ آج یہ ٹورنامنٹ عالمی کھیلوں کی دنیا کی ایک نمایاں پہچان بن چکا ہے اور ہر سال دنیا بھر کے لاکھوں شائقین کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔

1877 میں آل انگلینڈ لان ٹینس اینڈ کروکیٹ کلب نے اپنے لان رولر (گھاس ہموار کرنے والی مشین) کی مرمت کے لیے رقم جمع کرنے کی غرض سے ایک مقامی اخبار میں اشتہار شائع کیا، جس میں ٹینس مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ اسی اشتہار کے نتیجے میں پہلا ومبلڈن چیمپئن شپ ٹورنامنٹ منعقد ہوا، جس میں صرف مردوں کے سنگلز مقابلے شامل تھے۔ پہلے ومبلڈن ٹورنامنٹ میں صرف 22 کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا اور تقریباً 200 تماشائی فائنل دیکھنے پہنچے تھے۔ اس وقت کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ مقابلہ مستقبل میں دنیا کے سب سے معتبر گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس میں شامل ہو جائے گا۔

ومبلڈن کی منفرد روایات

ومبلڈن اپنی کئی روایات کی وجہ سے دیگر ٹینس ٹورنامنٹس سے الگ مقام رکھتا ہے:

تمام مقابلے قدرتی گھاس کے کورٹ پر کھیلے جاتے ہیں۔

کھلاڑیوں کے لیے سفید لباس پہننا تقریباً لازمی روایت ہے۔

اسٹرابیری اور کریم ومبلڈن کی علامتی خوراک سمجھی جاتی ہے۔

شاہی خاندان کے افراد اکثر مقابلے دیکھنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔

عالمی شہرت کی جانب سفر

وقت گزرنے کے ساتھ ومبلڈن نے بین الاقوامی حیثیت اختیار کر لی۔ خواتین کے مقابلے، ڈبلز اور دیگر زمروں کا اضافہ کیا گیا، جبکہ دنیا کے بہترین کھلاڑی اس ٹورنامنٹ میں شرکت کو اپنے کیریئر کا اہم سنگِ میل سمجھنے لگے۔

راجر فیڈرر، نوواک جوکووچ، سرینا ولیمز، مارٹینا ناوراتیلوا اور بیورن بورگ جیسے عظیم کھلاڑیوں نے ومبلڈن میں اپنی تاریخی کامیابیوں کے ذریعے اس ٹورنامنٹ کی شان میں مزید اضافہ کیا۔آج ومبلڈن صرف ایک ٹینس مقابلہ نہیں بلکہ کھیلوں کی تاریخ، روایت اور وقار کی علامت بن چکا ہے۔ ایک چھوٹے سے اشتہار سے شروع ہونے والا یہ سفر اب عالمی کھیلوں کے سب سے بڑے اور باوقار ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read