واشنگٹن: فیفا کے سابق عہدیدار اور گورننس کمیٹی کے سابق سربراہ میگوئل پوئرس مادورو نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتوں کی حکمت عملی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فٹ بال کے عالمی مقابلے پر منافع کمانے کی سوچ غالب آ گئی ہے اور شائقین کے مفادات پسِ پشت چلے گئے ہیں۔
ٹکٹوں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر
رپورٹ کے مطابق 2026 فیفا ورلڈ کپ کے ٹکٹ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں سب سے مہنگے ہیں۔ فائنل میچ کے پریمیم ٹکٹوں کی قیمت تقریباً 16 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو 2022 قطر ورلڈ کپ کے فائنل کے مساوی ٹکٹوں کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ میگوئل مادورو نے کہا کہ فٹ بال تیزی سے ایک ایسے کھیل میں تبدیل ہو رہا ہے جس تک صرف امیر طبقے کی رسائی ممکن رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق فیفا میں آزادانہ نگرانی اور احتساب کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث تنظیم مسلسل زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
فیفا میں مفادات کے ٹکراؤ کا الزام
مادورو نے استدلال پیش کیا کہ مسئلے کی بنیادی وجہ فیفا کا دوہرا کردار ہے۔ ایک جانب وہ عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم ہے اور دوسری جانب خود ایک بڑا تجارتی ادارہ بھی ہے۔ ان کے مطابق بطور ریگولیٹر فیفا کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ فٹ بال سے حاصل ہونے والی آمدنی کا فائدہ پورے کھیل اور زیادہ سے زیادہ شائقین تک پہنچے، لیکن بطور تجارتی ادارہ اس کی اولین ترجیح اپنی آمدنی میں اضافہ بن گئی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ مادورو کو 2016 میں فیفا میں گورننس، شفافیت اور اصلاحات کے لیے لایا گیا تھا، تاہم ایک سال سے بھی کم عرصے بعد ان کا فیفا سے تعلق ختم ہو گیا تھا۔
48 ٹیموں اور 1,248 کھلاڑیوں کے ساتھ ریکارڈ ساز ورلڈ کپ
دوسری جانب فیفا نے تصدیق کی ہے کہ 2026 ورلڈ کپ میں ریکارڈ 48 ممالک کی ٹیمیں اور 1,248 کھلاڑی شرکت کریں گے۔ امریکہ، میکسیکو اور کناڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ ٹیموں، کھلاڑیوں اور میچوں کی تعداد کے لحاظ سے ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن ہوگا۔ ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان میکسیکو سٹی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
