نئی دہلی: دنیا کی نمبر ایک خاتون ٹینس کھلاڑی ارینا سبالینکا نے کہا ہے کہ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کی انعامی رقم میں کھلاڑیوں کو زیادہ حصہ ملنا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو کھلاڑی اپنے حقوق کے لیے بائیکاٹ جیسے سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
انعامی رقم پر کھلاڑیوں کا احتجاج
اٹالین اوپن کے دوران ایک پریس کانفرنس میں سبالینکا نے کہا کہ ٹورنامنٹس کی اصل کشش کھلاڑی ہی ہوتے ہیں، اور ان کے بغیر کوئی بھی ایونٹ مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھلاڑی زیادہ مالی حصہ کے حقدار ہیں اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بائیکاٹ واحد راستہ رہ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کھلاڑی آسانی سے متحد ہو سکتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق کچھ معاملات میں کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے جو ایک وقت کے بعد شدید ردعمل کا سبب بن سکتی ہے۔
خط کے ذریعے مطالبات، 22 فیصد شیئر کی مانگ
سبالینکا نے بتایا کہ گزشتہ سال کئی بڑے کھلاڑیوں نے چاروں گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کے منتظمین کو خطوط لکھے تھے، جن میں انعامی رقم میں اضافہ، ریٹائرمنٹ اور زچگی کے دوران سہولیات بہتر بنانے جیسے مطالبات شامل تھے۔ کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ کی آمدنی میں کم از کم 22 فیصد حصہ مانگا ہے، تاکہ یہ رقم اے ٹی پی اور ڈبلیو ٹی اے کے مشترکہ 1000 لیول ایونٹس کے برابر ہو سکے۔ دوسری جانب پولینڈ کی اسٹار کھلاڑی ایگا سویاتیک نے بائیکاٹ کے خیال کو کچھ زیادہ سخت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم چیز گورننگ باڈیز کے ساتھ بہتر مکالمہ اور بات چیت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فرینچ اوپن سے قبل کھلاڑیوں اور منتظمین کے درمیان ملاقات ہوگی جس میں ان مسائل کا حل نکالا جا سکے گا۔
فرینچ اوپن سے پہلے دباؤ میں اضافہ
واضح رہے کہ حال ہی میں فرینچ اوپن کی جانب سے انعامی رقم میں 9.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا، جسے کھلاڑیوں نے ناکافی قرار دیا ہے۔ گزشتہ سال ٹورنامنٹ کی آمدنی 395 ملین یورو رہی جبکہ کھلاڑیوں کا حصہ کم ہو کر 14.3 فیصد رہ گیا۔ اسی پس منظر میں سبالینکا کے بیان کو منتظمین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ رواں سال فرینچ اوپن 2026 18 مئی سے 7 جون تک کھیلا جانا ہے۔ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کی بڑھتی ہوئی آمدنی کے باوجود کھلاڑیوں کا حصہ کم رہنا ایک بڑا تنازع بنتا جا رہا ہے اور اگر جلد کوئی حل نہ نکلا تو ٹینس کی دنیا میں ایک بڑی تحریک دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

