Jan Nisar Akhtar Poetry: آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔
Waseem Barelvi Poetry: آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے…. پروفیسر وسیم بریلوی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
وسیم بریلوی کا کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے دکھ کو بھی ایسی نرمی اور وقار کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کے دل میں امید کا دیا جل اٹھے۔ ان کے یہاں رومان بھی ہے، مزاحمت بھی اور انسان دوستی کا گہرا شعور بھی۔
Munawwar Rana Poetry: کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا……منور رانا کا یہ خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
منور رانا نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے 1977 میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔرانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداںؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔
Asrarul Haq Majaz Poetry: دفن کرسکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو….اسرارالحق مجاز کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
مجازؔ اردو شاعری کا وہ چراغ ہے جو کم جلا، مگر اپنی روشنی میں سب کو جلتا ہوا دکھائی دیا۔ ان کا کلام اور ان کی شخصیت آج بھی ہمارے جذبات کے ساز پر بجتی ہے،ایک مسلسل دُھن کی طرح، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔
Kalim Aajiz Poetry: درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہیے…. ڈاکٹر کلیم عاجز کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
کلیم عاجز کے شعری مجموعے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام قارئین میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔ وہ لال قلعہ دہلی کے مشاعروں میں دہائیوں تک بہار کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔
Amir Meenai Poetry: خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر….امیر مینائی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
اگر اردو غزل ایک نازک احساس ہے اور نعت ایک روحانی وجد، تو امیر مینائی ان دونوں کے سنگم پر کھڑے وہ شاعر ہیں جنہوں نے الفاظ کو صرف لکھا نہیں، برتا ہے۔ وہ ایک ایسے ادبی صوفی تھے جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ شاعری صرف قافیہ پیمائی نہیں، بلکہ احساس کی عبادت بھی ہے۔
Dr. Bashir Badr Poetry: ہردھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں….ڈاکٹر بشیر بدر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔
Jaleel Manikpuri Poetry: آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے….جلیل مانک پوری کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جلیل مانک پوری کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ وہ صرف شاعر نہیں، اردو ادب کا ایک روشن چراغ تھے۔ ان کی غزلیں نہ صرف محبوب کے چہرے کی جھلک بیان کرتی ہیں بلکہ انسانی جذبات کی گہرائیوں میں بھی جھانکتی ہیں۔ اگر آپ نے جلیلؔ مانک پوری کا کلام ابھی تک نہیں پڑھا تو آج ہی ان کی غزلیں پڑھیں۔
Dr. Bashir Badr Poetry: کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں کہ میری نظر کو خبر نہ ہو….ڈاکٹر بشیر بدر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔
Fana Nizami Kanpuri Poetry: دل عشق میں ہوتا ہے مائل بہ فغاں پہلے…..فنا نظامی کانپوری کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
فنا نظامی کانپوری کی شاعری فقط الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو خودی، حیا، غیرت اور حق پرستی کی تعلیم دیتی ہے۔ وہ اردو شاعری میں ایک ایسی آواز ہیں جس نے رسمیات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی۔





