Bharat Express DD Free Dish

شعروشاعری

جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔

وسیم بریلوی کا کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے دکھ کو بھی ایسی نرمی اور وقار کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کے دل میں امید کا دیا جل اٹھے۔ ان کے یہاں رومان بھی ہے، مزاحمت بھی اور انسان دوستی کا گہرا شعور بھی۔

منور رانا نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے 1977 میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔرانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداںؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔

مجازؔ اردو شاعری کا وہ چراغ ہے جو کم جلا، مگر اپنی روشنی میں سب کو جلتا ہوا دکھائی دیا۔ ان کا کلام اور ان کی شخصیت آج بھی ہمارے جذبات کے ساز پر بجتی ہے،ایک مسلسل دُھن کی طرح، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔

کلیم عاجز کے شعری مجموعے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام قارئین میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔ وہ لال قلعہ دہلی کے مشاعروں میں دہائیوں تک بہار کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 

اگر اردو غزل ایک نازک احساس ہے اور نعت ایک روحانی وجد، تو امیر مینائی ان دونوں کے سنگم پر کھڑے وہ شاعر ہیں جنہوں نے الفاظ کو صرف لکھا نہیں، برتا ہے۔ وہ ایک ایسے ادبی صوفی تھے جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ شاعری صرف قافیہ پیمائی نہیں، بلکہ احساس کی عبادت بھی ہے۔

بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔

جلیل مانک پوری کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ وہ صرف شاعر نہیں، اردو ادب کا ایک روشن چراغ تھے۔ ان کی غزلیں نہ صرف محبوب کے چہرے کی جھلک بیان کرتی ہیں بلکہ انسانی جذبات کی گہرائیوں میں بھی جھانکتی ہیں۔ اگر آپ نے جلیلؔ مانک پوری کا کلام ابھی تک نہیں پڑھا تو آج ہی ان کی غزلیں پڑھیں۔

بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1999) اور پدم شری جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی یادداشت متاثر ہوئی، مگر ان کی شاعری آج بھی قاری کے دل میں زندہ ہے۔

فنا نظامی کانپوری کی شاعری فقط الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو خودی، حیا، غیرت اور حق پرستی کی تعلیم دیتی ہے۔ وہ اردو شاعری میں ایک ایسی آواز ہیں جس نے رسمیات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلائی۔