کمل ہاسن
اداکار سے سیاست دان بنے کمل ہاسن نے جمعہ کو چنئی میں اپنی پارٹی مکل ندھی مییم (ایم این ایم) کے 8ویں یوم تاسیس پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا اور لسانی فخر کی اہمیت پر زور دیا۔ یوم تاسیس کے موقع پر، ہاسن نے چنئی میں ایم این ایم ہیڈکوارٹر پر پارٹی پرچم بھی لہرایا۔
اپنے خطاب میں کمل ہاسن نے تمل ناڈو کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ خاص طور پر وہ تمل زبان کولے کر بہت فکر مند نظر آتے تھے۔ انہوں نے ہندی کے نفاذ کے خلاف تمل ناڈو کی تاریخی جدوجہد کا حوالہ دیا اور ان لوگوں کو خبردار کیا جو زبان کے مسائل کو ہلکے سے لے سکتے ہیں۔
” ہا سن نے لسانی خود مختاری کے جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمل لوگوں نے اپنی زبان کے لیے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ ان کے جذبات سے مت کھیلو۔ تمل باشندے، یہاں تک کہ بچے، جانتے ہیں کہ وہ کون سی زبان چاہتے ہیں۔ ان کے پاس دانشمندی ہے کہ وہ کون سی زبان چاہتے ہیں۔،
کمل ہاسن نے اپنے سیاسی کیرئیر پر ہونے والی تنقید کو بھی تسلیم کیا۔ مخالفین انہیں ’’ناکام سیاست دان‘‘ قرار دیتے ہیں۔ تاہم، اپنے سفر پر غور کرتے ہوئے، ہاسن نے اعتراف کیا کہ وہ سیاست میں دیر سے داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں ہار گیا کیونکہ میں سیاست میں بہت دیر سے آیا، اگر میں 20 سال پہلے آتا تو میری تقریر اور صورتحال مختلف ہوتی۔
اپنے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، ہاسن نے ایم این ایم کے آنے والے سیاسی عزائم کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سال پارٹی کی آواز پارلیمنٹ میں سنی جائے گی، اور اگلے سال ریاستی اسمبلی میں محسوس کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کی تیاری شروع کریں، ان کی فعال شرکت کی اہمیت پر زور دیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘آج ہم 8 سال کے ہو گئے ہیں، جیسے کوئی بچہ بڑا ہو رہا ہے، اس سال ہماری آواز پارلیمنٹ میں سنی جائے گی اور اگلے سال اسمبلی میں آپ کی آواز نظر آئے گی۔’
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

