پنجاب حکومت نے جیل کے کام کاج میں سدھار لانے کے لیے افسروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ بدعنوانی کے معاملے میں بھگونت مان حکومت نے الگ الگ جیلوں کے 25 افسروں کو معطل کر دیا ہے۔ معطل کیے گئے افسروں میں 3 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور 2 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سمیت 25 جیل اہلکار شامل ہیں۔
کارروائی کا مقصد جیلوں کے طریقہ کار میں سدھار لانا
حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی جیلوں کے اندر ڈرگس نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ حکومت کو مسلسل جیلوں میں بدعنوانی کی خبریں مل رہی تھیں، جس کے بعد یہ سخت قدم اٹھایا گیا۔ اس کارروائی کا مقصد جیلوں کے طریقہ کار میں سدھار لانا اور شفافیت کو یقینی کرنا ہے تاکہ افسر اپنے عہدے کے وقار کو سمجھیں اور لاپروائی سے بچیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے جیل افسر اپنے کام کو مزید ایمانداری کے ساتھ ادا کریں گے۔ ترجمان نے کہا، ’’یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ پنجاب حکومت شروع سے ہے نشے کے خلاف سخت رہی ہے۔ نشے پر لگام لگانے کے لیے ریاستی حکومت کئی اہم اقدامات کر رہی ہے۔‘‘
ریاست بھر میں نشے کے خلاف حکومت سخت
غور طلب ہے کہ 26 جون کو پنجاب حکومت نے ڈاٹا انٹلی جنس اور تکنیکی تعاون اکائی قائم کرنے کے لیے اننیا بڑلا فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک معاہدہ نامہ پر دستخط کیے تھے۔ یہ ڈاٹا انٹلی جنس اور تکنیکی تعاون اکائی پنجاب میں نشیلی دواؤں کے خطرے سے نپٹنے میں مدد کرے گی۔ وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اس وقت کہا تھا کہ یہ قدم ریاست بھر میں نشے پر لگام لگانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
لوگوں کو نشے کے خلاف بیدار بھی کیا جارہا ہے
اس درمیان پنجاب میں لوگوں کو نشے کے خلاف بیدار بھی کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان کی مدد کے لیے ری ہیب سینٹر بھی بنائے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ اب جیل میں ہو رہی بدعنوانی اور ڈرگس نیٹ ورک کو بھی ختم کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
نشے سے پاک ریاست کے لیے کئی سطحوں پر مہم
پنجاب کو نشے سے پاک کرنے کے لیے کئی سطحوں پر کام کیے جا رہے ہیں۔ عوامی بیداری مہم چلائی جا رہی ہے اور نشے کی لت میں مبتلا لوگوں کی مدد کے لیے ری ہیب سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جیلوں میں ڈرگس نیٹ ورک اور بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے بھی قدم اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ریاست کو نشہ سے پاک بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



