Urdu Conclave 2026

Mahakumbh 2025:مہا کمبھ کے دوران کھلے میں رفع حاجت پر این جی ٹی برہم ! یوپی حکومت کو دی ہدایت،کہا- یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اس معاملہ پر فوراً عملی قدم اٹھائیں

این جی ٹی نے یوپی حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی سے مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت دی اور فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا تفصیلی حکم بعد میں پاس کریں گے۔

مہاکمبھ

نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں پریاگ راج مہا کمبھ میں کھلے میں رفع حاجت کرنے پر اتر پردیش حکومت پر 10 کروڑ روپے جرمانے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ یوپی حکومت پر بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے این جی ٹی نے کہا کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، آپ کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ اس معاملے میں یوپی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا ہے۔ ٹریبونل نے فی الحال اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

ساتھ ہی، اتر پردیش حکومت نے این جی ٹی کو بتایا کہ ہم نے اس معاملے میں پہلے ہی سے تیاری کر لی ہے، جس کے بارے میں ہم اپنا جواب داخل کریں گے۔ یوپی حکومت کی جانب سے یوپی آلودگی کنٹرول بورڈ (یو پی پی سی بی) نے کہا کہ ہم اس معاملے میں ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

این جی ٹی نے یوپی حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی سے مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت دی اور فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا تفصیلی حکم بعد میں پاس کریں گے۔

درخواست میں کیا دعویٰ کیا گیا؟

عرضی گزاروں نے این جی ٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مہا کمبھ نگر میں انسانی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے بہت سے انتہائی جدید بائیو ٹوائلٹ لگائے ہیں، لیکن ان سہولیات کی کمی یا صفائی کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ دریائے گنگا کے کنارے کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔

درخواست کے مطابق لاکھوں عقیدت مند اور ان کے اہل خانہ مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کھلے میں رفع حاجت کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے نہ صرف بائیو ٹوائلٹس کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے بلکہ ان کی مناسب صفائی اور دیکھ بھال پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read