Bharat Express DD Free Dish

Massive fire in Rithala: دہلی کے رٹھالہ میں فیکٹری میں شدید آتش زدگی، متعدد افراد کے زخمی ہونے کا خدشہ

ابتدائی معلومات کے مطابق کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، حالانکہ ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دونوں اطراف سے آگ بجھانے کے لیے فیکٹری کی دیوار کو توڑا جا رہا ہے جس کے لیے جے سی بی مشین کی مدد لی جا رہی ہے۔

دہلی کے رٹھالہ میں فیکٹری میں شدید آتش زدگی

دہلی فائر نیوز: دہلی کے رٹھالہ  علاقے میں ایک کثیر المنزلہ فیکٹری میں منگل کی صبح اچانک زبردست آگ لگ گئی۔ آگ اس قدر خوفناک تھی کہ کچھ ہی دیر میں پورا علاقہ کالے دھوئیں کی زد میں آگیا، جسے دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔

فائر ڈپارٹمنٹ کوشام 7 بجکر 25 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی، جس کے فوراً بعد اے ڈی او اجے شرما کی قیادت میں 16 فائر انجنوں کو موقع پر روانہ کیا گیا۔ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔

جائے وقوعہ کے آس پاس ایک رہائشی علاقہ ہے جہاں دیگر کئی فیکٹریاں بھی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے کئی فیکٹریاں بغیر کسی اصول و ضوابط کے کام کر رہی ہیں جس سے مقامی لوگوں کی حفاظت خطرے میں پڑ رہی ہے۔ یہ آگ بھی غفلت کی مثال سمجھی جا رہی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، حالانکہ ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دونوں اطراف سے آگ بجھانے کے لیے فیکٹری کی دیوار کو توڑا جا رہا ہے جس کے لیے جے سی بی مشین کی مدد لی جا رہی ہے۔

فی الحال فائر فائٹرز راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے اور اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس حادثے کے بعد مقامی لوگوں میں خوف اور غصے کا ماحول ہے اور وہ انتظامیہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read