Bharat Express DD Free Dish

Kerala Flood: کیرالہ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوئی، 6 افراد لاپتہ؛ محکمۂ موسمیات نے شدید بارش کا جاری کیا انتباہ

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت پہاڑی اور سیلاب زدہ علاقوں کا رخ نہ کریں۔ محکمۂ موسمیات نے وسطی اور شمالی کیرالہ میں مزید شدید سے نہایت شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث نئے سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ترواننت پورم: کیرالہ میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ چھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ شدید بارش نے ریاست بھر میں صورتِ حال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔ سیلاب، پہاڑی تودے گرنے اور دریاؤں میں طغیانی کے سبب ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ مکانات، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مختلف اضلاع میں انتظامیہ نے راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

وزیراعلیٰ کا متاثرہ علاقوں کا دورہ

صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ وی۔ ڈی۔ ستیشن منگل کے روز ضلع پٹھانمتھٹا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں رنّی اور ارنمولا کا دورہ کریں گے۔ ان کا پہلا پڑاؤ دوپہر کے وقت ارنمولا ہوگا، جہاں وہ ضلعی حکام کے ساتھ میٹنگ کریں گے، راحتی کیمپوں کے انتظامات کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کا معائنہ کریں گے۔

حکومت کی انتظامی کوتاہیوں پر سوال

قدرتی آفت سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر سیاسی تنقید کا سامنا کر رہی ریاستی حکومت کے لیے وزیراعلیٰ کا یہ دورہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ سیلاب کے ابتدائی اور نہایت اہم مرحلے میں مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ نہیں تھا۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو شاید تباہی کی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا۔

ہزاروں افراد راحتی کیمپوں میں منتقل

اگرچہ جنگلاتی علاقوں میں رات کے دوران بارش کی شدت میں کچھ کمی آئی، تاہم ضلع پٹھانمتھٹا میں حالات اب بھی تشویشناک ہیں۔ رنّی اور ارنمولا میں سیلاب جیسی صورتِ حال برقرار ہے، جہاں پمبا، اچن کوول اور ککّاتر دریاؤں میں پانی کی سطح بدستور بلند ہے۔ انتظامیہ نے دریاؤں کے کنارے رہنے والے شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔

ہزاروں افراد راحتی کیمپوں میں منتقل

ضلعی انتظامیہ نے 74 راحتی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں تین ہزار سے زائد افراد کو پناہ دی گئی ہے۔ ان کیمپوں تک ضروری اشیائے خورد و نوش اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں حساس علاقوں میں ہر وقت تیار ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت پہاڑی اور سیلاب زدہ علاقوں کا رخ نہ کریں۔ محکمۂ موسمیات نے وسطی اور شمالی کیرالہ میں مزید شدید سے نہایت شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث نئے سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read