انکت سکسینہ قتل کیس
دہلی کی ایک عدالت نے انکت سکسینہ کے قتل میں ملوث تین مجرموں کو سنائی گئی سزا پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا لیا ہے، جسے 2018 میں قومی دارالحکومت میں سر عام قتل کر دیا گیا تھا۔ تیس ہزاری عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج (ASJ) سنیل کمار شرما نے گزشتہ سال 23 دسمبر کو قصوروار قرار دیے گئے اکبر علی، شہناز بیگم اور محمد سلیم کی سزا پر اپنا فیصلہ 7 مارچ تک موخر کر دیا ہے
وکٹم امپیکٹ اسسمنٹ رپورٹ
دہلی لیگل سروس اتھارٹی (DLSA) نے پہلے سکسینہ سے متعلق وکٹم امپیکٹ اسسمنٹ رپورٹ پیش کی تھی، جس میں پتہ چلا کہ ان کے والد انتقال کے بعد خاندان کی واحد زندہ بچ جانے والی رکن اس کی ماں ہیں۔ رپورٹ معاوضے کے تعین کے لیے اہم تھی، اور جج نے اسے ریکارڈ پر لے لیا۔
ہفتہ کے روز دہلی پولیس نے اس جرم کے مجرموں کو زیادہ سے زیادہ سزا دینے کی دلیل دی۔ وہیں، وکیل دفاع نے عدالت پر زور دیا کہ وہ مجرموں کی سزا پر نرم رویہ اختیار کرے۔
کیس کا پس منظر
کیس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سکسینہ ایک الگ مذہب کی لڑکی کے ساتھ تعلقات میں تھا۔ جرم کے مرتکب لڑکی کے والدین اور ماموں تھے جنہوں نے ان کے بین مذاہب تعلقات کی مخالفت کی۔ بعد میں انہیں قصوروار ٹھہرایا گیا۔
مجرموں کے خلاف الزامات
مجرموں کے خلاف الزامات میں آئی پی سی کی دفعہ 302 (قتل) اور 34 (مشترکہ ارادے کو آگے بڑھانے میں متعدد افراد کی طرف سے کئے گئے اعمال) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شہناز بیگم کو بھی تکلیف پہنچانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



