ممبئی سے دہلی آنے والی پرواز میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب عملے کے ایک رکن کے کیبن میں ایک ٹشو پیپر ملا جس پر بم کی دھمکی لکھی ہوئی تھی۔ معلومات کے مطابق فلائٹ نمبر 2954 کے عملے کے ممبر نے ٹشو پیپر پر ایک پیغام دیکھا ،جس پر لکھا تھا “ایئر انڈیا 2948 @ T3 میں بم ہے”۔ اس کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی ایجنسیاں فوری طور پر چوکس ہوگئیں۔ دہلی فائر ڈپارٹمنٹ کو صبح 4 بجکر 42 منٹ پر کال موصول ہوئی، جس کے بعد سیکورٹی کی جانچ شروع کردی گئی۔ بم اسکواڈ اور دیگر سیکورٹی اداروں نے سرچ آپریشن کیا اور تحقیقات کے بعد اس کال کو ‘جھوٹا’ یعنی جھوٹی اطلاع قرار دیا گیا۔
ایئر انڈیا کا بیان
بم کے خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد ایئر انڈیا نے ایک بیان جاری کیا- “ہمارے ایک طیارے پر غیر مخصوص سیکورٹی الرٹ کا پتہ چلا۔ معیاری حفاظتی طریقہ کار کو مکمل طور پر مکمل کر لیا گیا ہے اور طیارے کو اگلی پرواز کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ایئر انڈیا اپنے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔”
تھائی لینڈ سے دہلی آنے والی فلائٹ کو ملی دھمکی
13 جون کو ایئر انڈیا کی پرواز AI-379 کو تھائی لینڈ کے فوکٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ یہ فلائٹ فوکٹ سے دہلی آرہی تھی۔ پرواز میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد اس کی ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا اور ائیرپورٹ کنٹیجنسی پلان (اے سی پی) پر عمل درآمد کیا۔ پرواز میں 156 مسافر سوار تھے۔
برمنگھم سے دہلی آنے والے طیارے کو بھی بم کی دھمکی ملی
اس سے قبل 22 جون کو ایئر انڈیا کی پرواز AI114 کو بم کی دھمکی ملنے کے بعد برمنگھم سے دہلی آتے ہوئے ریاض کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔ طیارہ بحفاظت ریاض پہنچ گیا اور تمام مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔ سیکورٹی چیکنگ کے بعد مسافروں کو ہوٹل میں رکھا گیا۔ فلائٹ کے ٹوائلٹ کے قریب سے ایک کاغذ ملا جس میں بم کی دھمکی تھی۔ یہ پرواز بوئنگ ڈریم لائنر 787-8 تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

