Bharat Express DD Free Dish

Hindenburg Research: تمام الزامات بے بنیاد ہیں، بدنام کرنے کی کوشش…’، SEBI چیف مادھابی پوری ُبچ نے ہنڈن برگ کے نئے انکشافات پر کہا

تاہم اب اس معاملے میں SEBI کی چیئرپرسن کی جانب سے وضاحت دی گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ سب بے بنیاد ہیں اور یہ صرف انہیں بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

تمام الزامات بے بنیاد ہیں، بدنام کرنے کی کوشش...'، SEBI چیف مادھابی بوچ نے ہنڈن برگ کے نئے انکشافات پر کہا

امریکی شارٹ سیلر فرم ہنڈن برگ نے گزشتہ سال ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں ہندوستانی ارب پتی گوتم اڈانی پر سنگین الزامات لگائے گئے تھے جبکہ اس سال بھی انہوں نے اڈانی کو شامل کرکے مارکیٹ ریگولیٹر SEBI کو نشانہ بنایا ہے۔ اپنی نئی رپورٹ میں، ہنڈن برگ نے اڈانی گروپ اور SEBI چیف مادھابی پوری ُبچ کے درمیان روابط کا دعویٰ کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ وسل بلور سے حاصل کی گئی دستاویزات سے آف شور اداروں کا پتہ چلتا ہے جو اڈانی منی سیفوننگ اسکینڈل میں استعمال ہوئی تھیں۔ اس میں SEBI چیئرمین کا حصہ تھا۔

تاہم اب اس معاملے میں SEBI کی چیئرپرسن کی جانب سے وضاحت دی گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ سب بے بنیاد ہیں اور یہ صرف انہیں بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

‘ہنڈن برگ کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے…’

ہفتہ کو ہنڈن برگ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وسل بلور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ مادھابی پوری ُپوربچ اور ان کے شوہر دھول بُچ نے 5 جون 2015 کو سنگاپور میں آئی پی ای پلس فنڈ 1 کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ کھولا۔ اس میں جوڑے کی کل سرمایہ کاری کا تخمینہ 10 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ ہندن برگ نے الزام لگایا کہ آف شور ماریشس فنڈ اڈانی گروپ کے ڈائریکٹر نے انڈیا انفو لائن کے ذریعے قائم کیا تھا اور یہ ٹیکس ہیون ماریشس میں رجسٹرڈ ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read