Bharat Express DD Free Dish

Bihar: بہار میں جنگل راج کی واپسی! آر جے ڈی لیڈر سنیل رائے کو کیا گیا اغوا، دفتر سے گھسیٹ کر اسکارپیو میں لے گئے بدمعاش

ہتھیاروں سے لیس نقاب پوش بدمعاشوں نے سنیل رائے کو گھسیٹ کر اپنی اسکارپیو کار میں بٹھایا اور فرار ہوگئے۔ چھپرہ بازار کمیٹی کے گیٹ سے ان کا موبائل بھی برآمد ہوا ہے۔

بہار میں جنگل راج کی واپسی! آر جے ڈی لیڈر سنیل رائے کو کیا گیا اغوا، دفتر سے گھسیٹ کر اسکارپیو میں لے گئے بدمعاش

Bihar: بہار میں اغوا کی صنعتیں پھر سے سرگرم نظر آنے لگی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں اب حکمران جماعت کے رہنما ہی محفوظ نہیں ہیں۔ نڈر بدمعاشوں نے منگل کی صبح آر جے ڈی لیڈر سنیل کمار رائے کو اغوا کر لیا، اغوا کا پورا واقعہ قریب ہی نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا ہے۔

ہتھیاروں سے لیس نقاب پوش بدمعاشوں نے سنیل رائے کو گھسیٹ کر اپنی اسکارپیو کار میں بٹھایا اور فرار ہوگئے۔ چھپرہ بازار کمیٹی کے گیٹ سے ان کا موبائل بھی برآمد ہوا ہے۔ موقع پر پہنچی پولیس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سنیل رائے آر جے ڈی لیڈر ہونے کے علاوہ ایک سابق فوجی رہ چکے ہیں اور فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد زمین کی خرید و فروخت کا کام کرتے ہیں۔

معلومات کے مطابق مفصل تھانہ علاقہ کے ساڈھا میں ان کی رہائش گاہ کے قریب ان کا دفتر واقع ہے، جہاں سے انہیں اغوا کیا گیا ۔ اس دوران 5 نقاب پوش بدمعاشوں نے اغوا کی واردات کو انجام دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنیل رائے نے آر جے ڈی کے خلاف بغاوت کی اور آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا۔ فی الحال اس مالمے میں پولیس نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ پولیس جائے وقوعہ پر پائے گئے رائے کے تباہ شدہ فون سے کال کی تفصیلات کی جانچ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں- Bihar Politics: کیا ہولی کے بعد تیجسوی وزیر اعلیٰ ہوں گے؟ آر جے ڈی ایم ایل اے کے دعوے سے بہار میں ہلچل بڑھی، لالن سنگھ نے کہا- 2025 میں ہو گا فیصلہ

تاہم اس سمت میں بھی تفتیش جاری ہے کہ سنیل رائے صبح سویرے اپنے گھر سے دفتر کے لیے کیوں نکلے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ بدمعاشوں نے پہلے اسے بلایا اور پھر اغوا کیا۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں دفتر بلانے میں ان کی کچھ معلومات بھی شامل ہوں۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read