Bharat Express DD Free Dish

Pakistan Terror Attack: پاکستان میں 48 گھنٹوں میں ہوئے 57 حملے، بی ایل اے-ٹی ٹی پی کا 100 سے زائد افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

 بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 90 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں۔ بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنی کارروائی قرار دیا۔

پاکستان میں حالات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ باغیوں کے مسلسل حملوں نے سکیورٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں 57 حملے ہوئے ہیں، جن میں بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ شامل نہیں ہے۔ ان میں سے زیادہ تر حملے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے کیے ہیں۔

باغیوں نے سنائپر شاٹس، گرینیڈ حملوں اور آئی ای ڈی دھماکوں سے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں اب تک 16 افراد ہلاک، جب کہ 46 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی بی ایل اے کے دعوے کے مطابق یہ تعداد 100 سے زائد بتائی جاتی ہے۔

فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تفتان جانے والے فوجی قافلے پر اتوار کو باغیوں نے حملہ کیا۔ اس حملے میں سات فوجی ہلاک جب کہ 21 زخمی ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 90 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں۔ بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنی کارروائی قرار دیا۔ یہ حملہ کوئٹہ سے 150 کلومیٹر دور نوشکی میں ہوا۔ واقعے کے بعد پاکستانی فوج نے علاقے میں ہیلی کاپٹر اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں۔

9 فوجی زخمی ہوئے

فوج کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایک اور دہشت گردانہ حملہ سامنے آیا ہے۔ یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع گڑیگال بارڈر پوسٹ پر ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں فرنٹیئر کور باجوڑ سکاؤٹس کے 9 جوان زخمی ہوئے ہیں۔

 ٹرین ہائی جیک کر لی گئی تھی

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 14 مارچ کو بی ایل اے نے ایک ٹرین کو ہائی جیک کیا تھا۔ پاکستانی فوج اور بلوچ باغیوں کے درمیان گھنٹوں تک شدید فائرنگ جاری رہی تھی۔ اس حملے کے حوالے سے پاکستان اور بلوچ باغیوں کی جانب سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کے مطابق اس حملے میں 31 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 18 فوجی بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کے ان حملوں کی وجہ سے ملک کو معاشی سطح پر بھی شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read