بجلی کے محکمے کی نجکاری کے امکان کو لے کر اتر پردیش میں سیاست تیز ہو گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بجلی کی نجکاری کرکے عوام کی کمر توڑنے جارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے پوشیدہ مقصد بڑی کمپنیوں سے بھاری چندہ اکٹھا کرنا ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا، “بی جے پی پرائیویٹائزیشن کے ذریعے نہ صرف سرکاری ملازمین کی نوکریاں ختم کر رہی ہے، بلکہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی بھی تیاری کر رہی ہے۔ بی جے پی مہنگائی سے نبرد آزما عوام سے پیسہ وصول نہیں کر سکتی، اس لیے وہ سرمایہ داروں کے ذریعے ان کا استحصال کر رہی ہے۔” ایس پی سربراہ نے مزید کہا کہ نجکاری کا اصل فائدہ صرف بی جے پی اور اس کے قریبی صنعت کاروں کو جائے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’’آج بجلی کی نجکاری کی جارہی ہے، کل پانی، سڑک یہاں تک کے حکومت چلانے کا بھی ٹھیکہ دے دیا جائے ۔‘‘
اس لڑائی میں ایس پی پوری طرح سے ریاست کے عوام کے ساتھ ہے – اکھلیش یادو
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی نجکاری کی آڑ میں ریزرویشن جیسے آئینی حقوق کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا، “بی جے پی پچھلے دروازے سے ریزرویشن چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کے حقوق پر سیدھا حملہ ہے۔” انہوں نے یقین دلایا کہ سماج وادی پارٹی اس لڑائی میں ریاست کے عوام، محکمہ بجلی کے ملازمین اور ریزرویشن کے حامیوں کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے۔
بجلی کی نجکاری کا مسئلہ کیوں اہم ہے؟!
بجلی کے شعبے میں نجکاری سے متعلق اتر پردیش حکومت کے منصوبے حالیہ دنوں میں سرخیوں میں رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے نظام میں بہتری آئے گی اوریوزرکو بہتر سروس ملے گی۔ لیکن ملازمین تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس سے ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ جائیں گی اور بجلی کے نرخوں میں زبردست اضافہ ہو جائے گا۔
ملک کی کئی ریاستوں میں بجلی کی نجکاری کی گئی
گزشتہ چند سالوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں بجلی کی نجکاری کی گئی ہے، جن میں دہلی، اڑیشہ اور مہاراشٹر نمایاں ہیں۔ وہاں کے یوزر کو اکثر قیمتوں میں اضافہ اور سروس میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکھلیش یادو کے اس بیان کے بعد یوپی کی سیاست میں بجلی کی نجکاری کا معاملہ مزید گرم ہو گیا ہے۔ یہ مسئلہ آنے والے وقت میں انتخابی ایجنڈے کا حصہ بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


