Bharat Express DD Free Dish

ED Action on Cyber Fraud: ای ڈی کی بڑی کارروائی، دہلی، گروگرام سمیت 11 مقامات پر چھاپے، 260 کروڑ کے سائبر فراڈ کا انکشاف

یہی نہیں کچھ ملزمین خود کو مائیکروسافٹ یا ایمازون جیسی بڑی کمپنیوں کی ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم کا رکن ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ اس گینگ نے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے سائبر فراڈ کو عالمی سطح پر انجام دیا۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے آج ایک بڑے بین الاقوامی سائبر دھوکہ دہی کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہلی، نوئیڈا، گرگرام اور دہرادون کے 11 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ یہ چھاپے منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق قانون (PMLA) کے تحت جاری تحقیقات کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔

ای ڈی کی تحقیقات میں چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ فراڈ گینگ بھارت اور بیرون ملک کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ دھوکہ باز خود کو پولیس یا کسی تحقیقاتی ایجنسی کا افسر ظاہر کرکے لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے تھے اور ان سے بھاری رقم وصول
کرتے تھے۔

یہی نہیں کچھ ملزمین خود کو مائیکروسافٹ یا ایمازون جیسی بڑی کمپنیوں کی ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم کا رکن ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ اس گینگ نے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے سائبر فراڈ کو عالمی سطح پر انجام دیا۔

کرپٹو کے ذریعے 260 کروڑ کی منی لانڈرنگ

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فراڈ سے حاصل کی گئی رقم کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کیا گیا، پھر اسے مختلف ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کیا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، تقریباً 260 کروڑ روپے کی رقم بٹ کوائن کے ذریعے جمع کی گئی، جسے بعد میں USDT (ایک کرپٹو کرنسی) میں بدل کر حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے متحدہ عرب امارات (دبئی سمیت) بھیجا گیا اور پھر وہاں اسے نقدی میں تبدیل کر لیا گیا۔

اس سنگین معاملے کی تحقیقات کا آغاز CBI اور دہلی پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے کیا تھا۔ چھاپوں کے دوران کئی الیکٹرانک آلات، دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے گئے ہیں۔ فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read